تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے اصلاح ہو تو معاملات میں بہتری آسکتی ہے ، اعجاز الحق

جمعہ جون 23:03

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ضیاء الحق) کے سربراہ محمد اعجاز الحق نے کہاہے کہ تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے اصلاح ہو تو معاملات میں بہتری آسکتی ہے ،گذشتہ پانچ سالوں کے دوران پارلیمنٹ میں ایک مضبوط آوازاٹھائی ہے ،بروقت اور پرامن الیکشن کے انعقاد کے لئے تمام اداروں کو اپنا اپنا مثبت اور موثر کردار کرنا ہوگا ،،الیکشن کمیشن فی الفور تمام امیدواروں کو مصدقہ ووٹر فہرستوں کی فراہمی یقینی بنائے،،نگران حکومت کی ذمہ داری ہے تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے کے لئے مساوی مواقع فراہم کرے ،بہاولنگر کے دونوں حلقوں سے کامیاب ہو کر بہاولنگر میں نہری نظام کو بہتر،،پانی کی فراہمی ،سڑکوں کی تعمیر نو سمیت شہریوں کو ہر سہولت فراہم کروں گا ،بدقسمتی سے سابقہ ادروار میں بہاولنگر کو جنوبی پنجاب میں بھی تسلیم نہیں کیا گیا اور حکومت پنجاب نے بھی بہاولنگر کو ترجیحات کی فہرست سے نکال دیا ،عوام میں شعور آگیا ہے ،سیاسی جماعتوں میں اب صرف رشتہ داری ،ملک بھر کے مختلف حلقوں سے میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر امیدواروں کو مسلم لیگ (ضیاء الحق ) کے ٹکٹس جاری کیے جارہے ہیں ۔

(جاری ہے)

وہ حلقہ این اے 167 اور 168میں مختلف کارنر میٹنگز،پبلک سیکرٹریٹ میں عوامی وفود اور معززین علاقہ سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کر رہے تھے ۔مسلم لیگ (ضیاء الحق ) کے سربراہ محمد اعجاز الحق نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات بہت قریب ہیں لیکن سیاسی جماعتیں ابھی تک ٹکٹوں کی تقسیم بھی نہیں کرسکی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ضیاء الحق) نے ہمیشہ حق اور سچ کی سیاست کی ،کبھی بھی ووٹ دینے والوں کا سر جھکنے نہیں دیا ۔

انہوں نے کہا کہ بہاولنگر کے نہری نظام میں بہتری کے لئے گذشتہ مالی سال میں بھی فنڈز مختص کرائے لیکن بدقسمتی سے وہ فنڈز نہیں مل سکے اور اب مالی سال 2018-19کے بجٹ میں فنڈز رمختص کرائے ہیں ،انشاء اللہ 25جولائی کو عوام کی ووٹ کی طاقت سے کامیاب ہو کر اس علاقے کی خدمت کے ایجنڈے کو مزید آگے بڑھائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد عوام کی خدمت ہے اسی ایجنڈے پر دن رات کام کرتے رہیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ بہاولنگر میں پانی کے بحران پر قابو پانا ہماری اولین ترجیح ہوگی اسکے بعد علاقے کے عوام کے دیگر مسائل کو بھی حل کرنے کے لئے تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ بہاولنگر کو جنوبی پنجاب میں بھی تسلیم نہیں کیا گیا اسی لئے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران حکومت پنجاب نے بہاولنگر کو ترجیح نہیں دی ۔انہوں نے کہا کہ بہاولنگر کے عوام باشعور ہوچکے ہیں اب جھوٹے ،نعرے ،دعوے اور وعدے کرنے والوں کو اپنی ووٹ کی طاقت سے مسترد کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ بہاولنگر کے غیور عوام کا ہمیشہ سے مشکور ہوں جنہوں نے ہر الیکشن میں مجھ پر اعتمادکرتے ہوئے مجھے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ پارلیمنٹ میں بھیجا ہے ۔