ہارٹ آف ایشیاء۔استنبول پراسس کے تحت ریجنل ٹیکنیکل گروپ کا چھٹا اجلاس برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اسلام آباد میں اختتام پذیر

جمعہ جون 23:03

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) ہارٹ آف ایشیاء۔استنبول پراسس کے تحت ریجنل ٹیکنیکل گروپ کے چھٹے اجلاس نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ معاون ممالک و اداروں کے تعاون سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق لائحہ عمل کے نفاذ کیلئے اقدامات میں مضبوطی لاتے ہوئے کوششیں تیز کریں۔ ہارٹ آف ایشیاء۔استنبول پراسس کے تحت ریجنل ٹیکنیکل گروپ کا چھٹا اجلاس برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ و اعتماد سازی اقدامات جمعہ کو اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوا۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم ای) پاکستان کے ممبر ڈی آر آر محمد ادریس محسود اور قزاخستان کے نمائندہ تالگت نورماگامبتوف نے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ اجلاس میں ہارٹ آف ایشیاء کے رکن ممالک بشمول پاکستان،، قزاخستان، افغانستان،، چین،، بھارت،، ایران،، کرغزستان اور ترکی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں معاون ملک جاپان اور مختلف اداروں بشمول اے ڈی پی سی، یو این ای ایس سی اے پی اور یو این ڈی پی کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے افتتاحی سیشن کی صدارت این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات نے کی۔ اپنے افتتاحی کلمات میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چھٹے ریجنل ٹیکنیکل گروپ اجلاس کی میزبانی ایک بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے نتیجہ میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبہ میں علاقائی تعاون کو فروغ ملے گا۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے ڈی پی سی ہانس گٹمین نے ہارٹ آف ایشیاء کے علاقائی لائحہ عمل برائے ڈی آر آر پر پیشرفت بارے رپورٹ پیش کی اور متعین کردہ 8 شعبوں میں پیشرفت کے نمایاں خدوخال کو اجاگر کیا۔ اجلاس کے شرکاء نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور اعتماد سازی سے متعلق اقدامات پر عملدرآمد اور اس سلسلہ میں پیشرفت کیلئے کئے گئے اقدامات کو سراہا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ رکن ممالک اپنے معاون ممالک و اداروں کے تعاون سے لائحہ عمل کے نفاذ کیلئے اقدامات میں مضبوطی لاتے ہوئے کوششیں تیز کریں۔

اجلاس کے اختتام پر ممبر ڈی آر آر ادریس محسود نے میڈیا کو اجلاس کے مقاصد اور اس کے نتائج کے بارے میں بریفنگ دی۔ ممبر این ڈی ایم اے نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات سے مختلف ممالک اور اداروں کے مابین آفات کے خطرات کو کم کرنے کے حوالہ سے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر کوششوں میں ہم آہنگی پیدا ہو گی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کوششوں کیلئے تعاون کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

اس موقع پر بتایا گیا کہ ناگہانی آفات سے نمٹنے کیلئے پاکستان نے اپنے تجربات کی روشنی میں رکن ممالک کو تعاون کی پیشکش کی ہے۔ افغانستان نے اس سلسلہ میں تعاون کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2روزہ کانفرنس میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالہ سے گائیڈ لائنز پیش کی گئیں جو علاقائی ممالک کیلئے ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے اعلامیہ میں پاکستان کے قائدانہ کردار کی تعریف کی گئی۔

اجلاس میں اس شعبہ میں کامیابیوں کو سراہا گیا جبکہ جہاں مزید بہتری کی گنجائش ہے وہاں مزید کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ جاپان اور معاون اداروں کی فنی مہارت اور تجربات سے رکن ممالک استفادہ کر سکیں گے جس کے نتیجہ میں آفات سے نمٹنے کی ان کی صلاحیت بڑھے گی۔ دریں اثناء چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایک انسانی ہمدردی کی کوشش ہے اس لئے ایسے فورمز پر سیاست زر بحث نہیں آنی چاہئے۔ انہوں نے تمام رکن ممالک اور معاون اداروں کے مثبت کردار کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ اس سے رکن ممالک کے مابین علاقائی تعاون کو فروغ ملے گا۔