بلوچستان وسائل سے مالامال صوبہ ہونے کے باوجود مالی مشکلات کا شکار ہے، نگران وزیراعلیٰ بلوچستان

سی پیک اور گوادر پورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس وصولی کے نظام میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے، عوام کا پیسہ عوام کی امانت ہے ، سی پیک اور گوادر پورٹ سے صوبے کی معیشت میں غیر معمولی تبدیلی آئے گی، علاؤالدین مری کا اجلاس سے خطاب

جمعہ جون 23:21

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری نے کہا ہے کہ بلوچستان وسائل سے مالامال صوبہ ہونے کے باوجود مالی مشکلات کا شکار ہے، ان تمام شعبوں اور محکموں میں ریفارمز ناگزیر ہیں جن سے صوبے کے ریونیو کو بڑھایا جاسکتاہے، ہمیں اب مزید وفاق پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے سنجیدگی سے جامع منصوبہ بندی کرنے اور سی پیک اور گوادر پورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس ریفارمز پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس وصولی کے نظام میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز محکمہ خزانہ کی جانب سے محکمہ کی کارکردگی کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

نگران وزیر خزانہ امام بخش بلوچ، چیف سیکریٹری بلوچستان ڈاکٹر اخترنذیر، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (منصوبہ بندی وترقیات) حافظ عبدالباسط، سیکریٹری خزانہ قمرمسعود اور دیگر متعلقہ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔

(جاری ہے)

سیکریٹری خزانہ قمر مسعود نے اجلاس کو صوبے کی مالی صورتحال، ترقیاتی اور غیرترقیاتی بجٹ سمیت مختلف مالی امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کا پیسہ عوام کی امانت ہے، اس کے ایمانداری سے استعمال ہی سے ہم صوبے کو مالی مشکلات سے نکال سکتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں صوبے میں ٹیکس ریفارمز لانے کی اشد ضرورت ہے اور ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری کے علاوہ ان تمام شعبوں اور اتھارٹیز میں اصلاحات کی بھی ضرورت ہے جن سے صوبے کے ریونیو کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں کانکنی، ماہی گیری سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، بیرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ مقامی سرمایہ کاروں کو صوبے میں سرمایہ کاری کرنے کی جانب راغب کرنے کے لئے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک اور گوادر پورٹ سے صوبے کی معیشت میں غیر معمولی تبدیلی آئے گی جس کے لئے ہمیں ابھی سے ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس وصولی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صوبہ اپنے وسائل سے ہی اپنے اخراجات پورے کرسکے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کو مزید فعال بنانے کے ساتھ ساتھ بلوچستان انوسٹمنٹ بورڈ کو بہتر بنانے کے لئے حکمت عملی وضع کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کے ذمہ بلوچستان کی واجب الادا رقوم اور بلوچستان کے جائز حصہ کے پانی کی فراہمی کے مسئلے کو جلد سند ھ حکومت سے اٹھایا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ موجودہ بجٹ میں جن محکموں کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے ان کی کارکردگی کی نگرانی بھی کی جائے، صوبے میں قائم مختلف اتھارٹیز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے حکمت عملی وضع کی جائے تاکہ صوبے کے خزانے پر بوجھ کم ہوسکے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبے کے بہتر مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ تمام ذمہ داران بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ عوامی وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بنائیں اور فنڈز کی ضیاع کو روکیں کیونکہ مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی سے ہی ہم ملک کے دیگر ترقی یافتہ صوبوں کی صف میں شامل ہوسکتے ہیں۔