پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو جان کا خطرہ ہے

پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو دھمکیاں بھی موصول ہو رہی ہیں۔ معروف صحافی کا انکشاف

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 11:44

پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو جان کا خطرہ ہے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 جون 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو جان کا خطرہ ہے بلکہ ان کو اس حوالے سے باقاعدہ دھمکیاں بھی موصول ہو رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ عمران خان تو خود نہیں بتائیں گے کہ مجھے جان کا خطرہ ہے اور اسی وجہ سے میں گھر سے باہر نہیں نکل سکتا۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان نے گھر سے باہر نکلنا بھی ہے ، انہوں نے میانوالی جانا ہے اور اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرنا ہے۔جان کا خطرہ تو نواز شریف ، بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری سمیت ملک کی تمام سیاسی قیادت کو ہے ہی لیکن عمران خان کا جو افغانستان،، ڈرونز اور باقی حوالے سے جو موقف ہے اور جو نقطہ نظر ہے وہ دنیا کی بڑی اسٹیبلشمنٹس کو قبول نہیں ہے۔

اور ان کو اس بات کا بالکل اندازہ ہے کہ اگر عمران خان حکومت میں آتے ہیں تو وہ ایک نئی بات کریں گے اور کھُل کر بات کریں گے، پھر ڈیل والا کوئی معاملہ نہیں ہو گا۔ اسی لیے عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔ باقی ٹکٹس کی تقسیم کے معاملے پر اختلافات تو چلتے ہی رہیں گے۔ گذشتہ روز موصول ہونے والی ایک خبر کے مطابق ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ سکیورٹی اہلکار پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی رہائش گاہ پر تعینات کرنے کے احکامات پر عملدرآمد کی صورت میں اس سکیورٹی پر ماہانہ ایک کروڑ روپے خرچ آئے گا جس کی ادائیگی قومی خزانے سے کی جائے گی۔

تحریک انصاف ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے سربراہ کی رہائش گاہ بنی گالہ پر وفاقی پولیس کی ایک ریزرو پہلے ہی مستقل طور پر تعینات رکھی گئی ہے جس میں دس پولیس اہلکار متعلقہ تھانہ بنی گالہ جبکہ باقی سکویرٹی ڈویژن پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔ ان تمام سکیورٹی اہلکاروں کو تین شفٹوں میں باری باری تبدیل بھی کیا جاتا ہے جب کے تمام تر اخراجات قومی خزانے سے ادا ہوتے ہیں۔

تاہم ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ مشتاق احمد نے تین دن قبل عمران خان کی رہائش گاہ پر تین سو رینجرز اہلکاروں کی نفری سکیورٹی کے نقطہ نظر کے تحت تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے تھے جن پر مجموعی طور پر ماہانہ صرف ہر اہلکار کی بیس سے پچیس ہزار روپے کی ایک بنیادی اضافی تنخواہ ادا کرنے پر ساٹھ سے ستر لاکھ روپے ملک کے قومی خزانے سے ادا کیے جائیں گے اور اس طرح یومیہ دو سے ڈھائی لاکھ روپے صرف رینجرز کے تین سو سکیورٹی اہلکاروں کو ادائیگی کی مد میں خرچ ہوں گے۔

عمران خان کی رہائش گاہ پر تعینات کی گئی سکیورٹی اور اس پر آنے والے اخراجات اور ان اخراجات کی قومی خزانے سے ادائیگی پر انہیں خاصی تنقید کا سامنا ہے ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان تو پروٹوکول اور اس طرح کی شاہی سکیورٹی کے مخالف تھے لیکن اب وہ خود ہی ملک میں بغیر کسی سرکاری عہدے کے قومی خزانے کے خرچ پر سب سے زیادہ سکیورٹی رکھنے والے پارٹی سربراہ بن گئے ہیں جو کہ ان کے حامیوں کے لیے بُری خبر ہے ، کیونکہ اگر عمران خان نے انتخابات میں کامیابی کے بعد بھی یہی طریقہ کار اپنایا تو ان میں اور ملک پر حکومت کرنے والے سابق حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا ۔

Your Thoughts and Comments