یورپ میں عوامیت پسندانہ اجانب دشمنی کے تیز پھیلاؤ پر تشویش ہے،کونسل آف یورپ

نفرت آمیز زبان اور جذباتی بیانات کا استعمال بھی تشویش ناک حد تک زیادہ ہو گیا ہے،سالانہ رپورٹ کا اجراء

ہفتہ جون 11:55

پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) یورپ میں غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف اور اجانب دشمنی پر مبنی سیاسی عوامیت پسندی کا تیز تر پھیلاؤ بہت زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ایسے رویوں کے پریشان کن پھیلاؤ کے خلاف تنبیہ یورپی کونسل کے ماہرین کے ایک کمیشن نے کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کونسل آف یورپ کے ماہرین کے اس کمیشن نے یہ تنبیہ بھی کی کہ یورپ میں عوامی سطح پر اظہار رائے کے لیے عوامیت پسند سیاسی رہنماؤں اور ان کے حامیوں کی طرف سے نفرت آمیز زبان اور جذباتی بیانات کا استعمال بھی تشویش ناک حد تک زیادہ ہو گیا ہے۔

کونسل آف یورپ کے ماہرین کے اس ادارے کا نام نسل پرستی اور عدم برداشت کے خلاف یورپی کمیشن ہے، جس نے جاری کردہ اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ کئی عوامیت پسند یورپی سیاستدانوں نے تارکین وطن کی یورپ آمد کو اپنے اپنے ممالک کے سماجی ڈھانچے اور سلامتی کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

(جاری ہے)

ایسا کرتے ہوئے ان پاپولسٹ سیاستدانوں نے یہ بات قطعانظر انداز کر دی کہ ان کے ایسے بیانات کے بالکل برعکس اسی حوالے سے شواہد کی بنیاد پر سامنے آنے والے حقائق‘ کس طرح کے امور کی نشان دہی کرتے ہیں۔

اس یورپی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کئی یورپی ممالک میں تارکین وطن اور ایسے دیگر مقابلتا کم محفوظ سماجی گروپوں کے بنیادی حقوق کی نفی کو جائز ثابت کرنے کی کاوشیں کرتے ہوئے سلامتی سے متعلق خدشات کو نعرہ بنا کر ایک ہتھکنڈے کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔نسل پرستی اور عدم برداشت کے خلاف یورپی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ بہت سے یورپی ممالک تو اپنے ہاں مہاجرین اور تارکین وطن کے بہتر سماجی انضمام کے لیے واقعی وسیع تر کوششیں کر رہے ہیں، جن میں رہائش، تعلیم اور روزگار جیسے شعبے بھی شامل ہیں، تاہم ساتھ ہی اس بات پر بھی غیر معمولی حد تک زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ یورپ میں تارکین وطن کی آمد کو روکنے کی ضرورت ہے۔

پیرس میں اپنے ادارے کی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کونسل آف یورپ کے اس کمیشن کے سربراہ ڑاں پال لیہنرز نے کہاکہ یورپی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیانیے کو زیادہ متوازن اور حقائق پر مبنی بنائیں، لیکن ساتھ ہی اس امر کو بھی یقینی بناتے ہوئے کہ تارکین وطن کی آمد کے ایک منظم نظام کی مثبت اہمیت بھی نظر انداز نہ کی جائے۔

متعلقہ عنوان :