جدہ:بے شمار سعودی خواتین ڈرائیونگ میں دلچسپی نہیں رکھتیں

خواتین کی ڈرائیونگ سے مرد کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی خواتین پر آ پڑے گا: سعودی خاتون

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ جون 12:51

جدہ:بے شمار سعودی خواتین ڈرائیونگ میں دلچسپی نہیں رکھتیں
جدہ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23جُون 2018ء) سعودی عرب میں ڈرائیونگ پر سے پابندی اُٹھنے کے بعد بہت سی خواتین ڈرائیونگ کرنا چاہتی ہیں‘ مگر وہ اس حوالے سے نروس بھی نظر آتی ہیں۔ جب کہ کچھ ایسی خواتین بھی ہیں جو سرے سے ڈرائیونگ میں دلچسپی ہی نہیں رکھتیں۔ جدہ سے تعلق رکھنے والی رِیم محمد انہی میں سے ایک ہے۔ اس کے مطابق ’’میرے پاس ڈرائیونگ نہ کرنے کے حوالے سے بہت سے جواز موجود ہیں۔

ہمیں ڈرائیونگ کا فیصلہ کرنے سے پہلے دیگر کئی عوامل کو ذہن میں رکھنا ہو گا۔ مثال کے طور پر سڑکیں تیار ہونی چاہئیں‘ خواتین کے لیے گاڑیاں آسانی سے پارک کرنے کی سہولت ہونی چاہیے‘ اس کے علاوہ خواتین کسٹمرز کے لیے صاف سُتھرے اور مناسب ماحول والی گاڑیوں کی ورکشاپس ہونی چاہئیں۔ جبکہ میں فی الحال اپنے شہر میں اس طرح کی کوئی سہولت نہیں دیکھتی۔

(جاری ہے)

جبکہ بطور ایک ماں کے میرے پاس ڈرائیونگ نہ کرنے کے حوالے سے کچھ نفسیاتی جواز بھی ہیں‘ جن میں سے ایک حادثات کا خوف ہے‘ ویسے بھی جب بچے ساتھ ہوں تو آپ کنفیوز ہو ہی جاتے ہیں‘ اس کے علاوہ میں نہیں چاہتی کہ گاڑی پارک کرنے کے لیے انتظار کی کوفت کا سامنا کرنا پڑی۔‘‘ راون نجار بھی انہی ماؤں میں سے ایک ہیں جو ڈرائیونگ نہیں کرنا چاہتیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’اگر خواتین ڈرائیو کرنے لگیں تو پھر کُنبے میں ذمہ داریوں کا توازن بگڑ جائے گا اور خواتین کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جائے گا ۔

کیونکہ سعودی مرد پہلے ہی اپنی ذمہ داریوں کو گھٹانے اور اُن سے فرار حاصل کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ ویسے بھی میں جب چاہوں اور جہاں جانا چاہوں‘ آسانی سے جا سکتی ہوں‘ چاہے وہ خاوند کے ساتھ ہو‘ یا اُبر اور کریم جیسی سروسز کے ساتھ۔‘‘ جبکہ جدہ سے ہی تعلق رکھنے والی اِسرا الحلیس کے مطابق ’’میرے خیال میں ہمارے سماج کو عورتوں کی ڈرائیونگ کو قبول کرنے اور اسے اختیار کرنے میں ابھی وقت درکار ہے۔

اس لیے میں ابھی اس حوالے سے انتظار کروں گی کہ مجھے کب ڈرائیونگ کی طرف آنا ہے۔‘‘ ریاض سے تعلق رکھنے والی صلحہ الحزمی نے پیش گوئی کی کہ ’’خواتین کی ڈرائیونگ کو سماج میں قبولیت اختیار کرنے میں کم از کم پانچ سال درکار ہوں گے۔ تاہم میں ریاض میٹرو پراجیکٹ کی تکمیل کے انتظار میں ہوں۔ کیونکہ میرا خیال ہے کہ ہمیں خواتین کی ڈرائیونگ پر سے پابندی اُٹھانے سے زیادہ پبلک ٹرانسپورٹیشن پر زیادہ دھیان دینا ہو گا۔

‘‘ مکّہ معظمہ کی رہائشی الخنسہ مُوسیٰ کا کہنا تھا کہ وہ ابھی چھ ماہ اور انتظار کرے گی پھر فیصلہ کرے گی کہ اُسے ڈرائیونگ کرنی چاہیے یا نہیں‘ کیونکہ اس حوالے سے سماجی رویوں کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ ہمارا سماجی نظام ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہاں خواتین کے لیے زیادہ ڈرائیونگ سکول نہیں ہیں‘ جبکہ ڈرائیونگ کورسز بھی بہت مہنگے ہیں۔‘‘ تبوک سے تعلق رکھنے والی یاسمین المُطیری نے کہا کہ بوڑھی خواتین ڈرائیونگ سے خوف زدہ ہیں‘ خاص طور پر بچوں کو گاڑی میں سوار کرا کے ڈرائیونگ کا خیال اُنہیں ڈرا دیتا ہے‘ اس کے علاوہ اُنہیں راستہ بھُول جانے کا دھڑکا بھی لگا رہتا ہے۔