کشمیر کی آزادی کوترجیح دیں گے، بھارتی کانگریس رہنما

کشمیری عسکریت پسندوں کیخلاف سخت گیرموقف سے کام نہیں چلیگا،سیف الدین سوز

ہفتہ جون 13:13

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) بھارتی کانگریس رہنما نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی کوترجیح دیں گے،،بھارتی حکومت کوحریت کانفرنس سے مذاکرات کرناچاہیے۔کانگریس لیڈرسیف الدین سوزنیضہ کشمیرکی صورتحال پر مبنی ’کشمیرتاریخ کے آئینے میں اورجدوجہدکی کہانی ‘ نامی کتاب لکھ دی جواگلے ہفتے شائع کی جائیگی۔مقبوضہ کشمیرسے تعلق رکھنے والے کانگریس لیڈر نے اعتراف کیا ہے کہ کشمیری عسکریت پسندوں کیخلاف سخت گیرموقف سے کام نہیں چلیگا، سیف الدین سوز نے کہا کہ واجپائی اگرحزب المجاہدین سے بات کرسکتے تھے تومودی حکومت کیوں نہیں مقبوضہ کشمیرمیں طاقت کااستعمال نہیں چلیگا،آپ مارسکتے ہیں،مارتے جائیں مگراس سے مسئلہ کاحل نہیں نکلے گاانہوں نے تاریخ سے پردے اٹھاتے ہوئے کہا کہ منموہن سنگھ کومسئلہ کشمیرپرجون 2007کواسلام آبادمیں پرویزمشرف سے ملاقات کرناتھی،انہوں نے مجھے کشمیرکے معاملے پربات کیلیے بحثیت وزیربلایاتھا،وہ مشرف سے فیصلہ کن بات چیت کیلیے اسلام آبادجارہے ہیں،بدقسمتی تھی کہ وہ حتمی اورفیصلہ کن ملاقات کیلیے نہ جاسکے۔

(جاری ہے)

کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ بی جیپی نے کشمیرمیں محبوبہ مفتی سیاتحاد2019 کے انتخابات کے سبب توڑاہے،بی جیپی 2019انتخابات کیلیے مہم ممکنہ طورپرجموں سے شروع کریگی۔دوسری جانب بھارتیہ جنتاپارٹی کیلیڈرصبرامنین سوامی نے سیف الدین سوز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کتاب بیچنے کے لیے اگر کوئی سستے ہتھکنڈے اپناتا ہے تو اس سے یہ سچ نہیں بدلا جائے گا۔ سیف الدین سوزپاکستان چلے جائیں……