آئین کے مطابق انتخابات 60دنوں میں منعقد ہونے چاہئیں،

نگران حکومت قلیل المدتی معاملات دیکھے گی‘ بیرسٹر علی ظفر بلیک لسٹ کیلئے وفاقی کابینہ نے فیصلہ نہیں کرنا ہوتا،بلیک لسٹ کے معاملے پر رولز اینڈ ریگولیشن بنانے کی ضرورت ہے نگران حکومت سوچ سمجھ کر قدم اٹھارہی ہے سکیورٹی کے فیصلے موصول ہونیوالی رپورٹس کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں‘ نگران وزیر اطلاعات، قانون

ہفتہ جون 13:34

آئین کے مطابق انتخابات 60دنوں میں منعقد ہونے چاہئیں،
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) نگران وزیر اطلاعات و نشریات اور قانون بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کاانعقاد نگران حکومت کی اولین ترجیح ہے ،آئین کے مطابق انتخابات 60دنوں میں منعقد ہونے چاہئیں،،نگران حکومت قلیل المدتی معاملات دیکھے گی اور طویل مدتی فیصلے نہیں کرے گی،بلیک لسٹ الگ سے ہے اس کیلئے وفاقی کابینہ نے فیصلہ نہیں کرنا ہوتا،بلیک لسٹ کے معاملے پر رولز اینڈ ریگولیشن بنانے کی ضرورت ہے ، نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے نیب کی درخواست موصول ہوچکی ہے اور اس سلسلہ میں قانون و انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔

سرکاری ٹی وی کو انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ نگران حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کرے گی اور الیکشن کمیشن کوہر طرح سے سہولت فراہم کی جائے گی ۔

(جاری ہے)

ہماری ذمہ داری ہے کہ صاف اور شفاف الیکشن کے لئے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں ۔ بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ صاف اور شفاف الیکشن کے لئے وفاق اور صوبوں کی سطح پر بیوروکریسی میں تبدیلی لائی گئی ہے ۔

نگران حکومت سوچ سمجھ کر انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے قدم اٹھارہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ پرامن انتخابات کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر وزارت داخلہ کو رپورٹس موصول ہورہیں ہیں۔سکیورٹی فول پروف بنانے کے فیصلے موصول ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ نگران حکومت مختلف شعبوں میں درپیش چیلنجز کے حل کے حوالے سے جامع گائیڈ لائن چھوڑکر جائے گی۔

انہوںنے کہا کہ فاٹا کاخیبر پختونخوا ہ میں انضمام بہت اہم گول ہے۔۔سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کادائرہ کار فاٹا تک بڑھا دیا گیا ہے۔ہر قانون جو پاکستانی شہری پر لاگو ہے وہ ہی فاٹا کے عوام پر لاگو ہوگا۔صدیوں سے فاٹا کے عوام کو وہ حقوق نہیں دیئے جو سارے پاکستانیوں کے پاس تھے۔۔فاٹا کے حوالے سے جن ارکان پارلیمنٹ نے کام کیا انہیںسلام پیش کرتا ہوں۔

فاٹا میں انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جارہا ہے۔ا نہوںنے کہا کہاربن سینٹرز انتظامی یونٹس کا قیام ایک پراسیس کے ذریعے ہورہا ہے۔چار سے چھ مہینے میں فاٹا انضمام کا پراسیس مکمل ہوجائے گا ۔ فاٹا کے خیبر پختوانخواہ میں انضمام کے لئے قائم کمیٹی تیزی سے اپنا کام کررہی ہے۔فاٹاکے حوالے سے تمام ایشوز کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ کے حوالے سے اعلی عدلیہ نے فیصلے کیے ہیں۔

اگر کسی شخص کو ای سی ایل پر ڈالنا ہے تو اس کا فیصلہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہوتا ہے۔بلیک لسٹ الگ سے ہے اس کے لئے وفاقی کابینہ نے فیصلہ نہیں کرنا ہوتا۔بلیک لسٹ کے معاملے پر رولز اینڈ ریگولیشن بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے بتایا کہ محمد نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے نیب کی درخواست موصول ہوچکی ہے۔قانون و انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا ۔