حمزہ شہباز اور عائشہ احد میں صلح کی مبینہ اور پُر اسرار شرائط

دو ہفتے قبل چیف جسٹس نے حمزہ شہباز اور عائشہ احد میں صلح کروائی تھی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 13:40

حمزہ شہباز اور عائشہ احد میں صلح کی مبینہ اور پُر اسرار شرائط
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 جون 2018ء) : سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور ان کی مبینہ اہلیہ عائشہ احد کے مابین صلح کی پُر اسرار شرائط نے عوام کو تجسس میں مبتلا کر دیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق حمزہ شہباز اور عائشہ احد کے مابین صلح کا معاملہ پُر اسرار حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ بہت سو افواہوں کے باوجود کوئی فریق بھی چیف جسٹس آف پاکستان کی موجودگی میں ہونے والی صلح کی شرائط بتانے کو تیار نہیں ہے۔

حمزہ شہباز اور ان کی مبینہ بیوی عائشہ احد سال ہا سال سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہے تھے ، چیف جسٹس کی طرف سے عائشہ احد کی درخواست پر حمزہ شہباز کو عدالت میں طلب کیا گیا اور دونوں کی خواہش پر لاہور رجسٹری آفس کے کمرہ میں ان دونوں کو مل بیٹھ کر اپنے اختلافات ختم کرنے کا موقع دیا گیا، 35 منٹ کی اس ملاقات کے بعد دونوں نے یہ تاثر دیا کہ ان میں صلح ہو گئی ہے جبکہ ابھی تک صلح کی شرائط پر عوام میں کئی طرح کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، اور کہا جا رہا ہے کہ عائشہ احد نے 10 کروڑ یا 14 کروڑ روپے حاصل کر کے حمزہ شہباز سے صلح کی۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اس موقع کے بعد آپس میں میاں بیوی ہیں جبکہ حمزہ شہباز نے الیکشن 2018ء کے لیے جمع کروائے کاغذات نامزدگی میں دو بیویوں کا تذکرہ کیا لیکن اس میں عائشہ احد کا نام شامل نہیں ہے۔ تو اس موقع پر پھر یہ سوال گردش کر رہے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ان فریقین کے مابین کیا معاہدہ کروایا ہے؟ حمزہ شہباز نے تاحال عائشہ احد کو اپنی بیوی تسلیم نہیں کیا، اس مسئلہ پر عائشہ احد سے رابطہ بھی کیا گیا اور ان سے صلح کی شرائط دریافت کرنے کی کوشش بھی کی گئی ۔

عائشہ احد نے بتایا کہ میں سال ہا سال سے مطالبہ کررہی تھی اور اللہ نے مجھے اس میں سرخرو کیا۔ حمزہ شہباز سے کروڑوں روپے لینے کے سوال کے جواب میں عائشہ احد نے کہا کہ میں نے کوئی رقم وصول نہیں کی ، یہ ساری باتیں لغو اور جھوٹی ہیں، حمزہ شہباز کے کاغذات نامزدگی میں عائشہ احد کا ذکر نہ ہونے سے متعلق سوال پر عائشہ احد نے کہا کہ یہ سوال آپ حمزہ شہباز سے کریں۔

یاد رہے کہ 11 جون کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں عائشہ احد کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران عائشہ احد اور حمزہ شہباز شریف عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔دوران سماعت عائشہ احد کا کہنا تھا کہ میری حمزہ سے 2010ء میں شادی ہوئی تھی۔غلام حسین اور سرور ہمارے نکاح کے گواہ ہیں۔ شادی کے بعد سے حمزہ شہباز مجھے مسلسل ذلیل کر رہا ہے۔ جب کہ حمزہ شہباز شریف نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ میری عائشہ احد سے شادی نہیں ہوئی،،چیف جسٹس نے حمزہ شہبازسے مکاملہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے اپنا بڑا سمجھیں،میں آپ دونوں کو بیٹا اور بیٹی مانتا ہوں۔

آپ چاہیں تو میں یہ مسئلہ حل کروا سکتا ہوں۔۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں آپ دونوں میں ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہوں۔حمزہ آپ کہتے ہیں کہ شادی نہیں ہوئی تو میں جے آئی ٹی تشکیل دے دیتا ہوں۔۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میں دونوں فریقین کا موقف سننا چاہتا ہوں۔دورا ن سماعت حمزہ شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ عاشہ احد اور حمزہ شہباز کی شادی کا کوئی بھی ثبوت موجود نہیں ہے۔

دوران سماعت حمزہ شہباز کے وکیل زاہد حسن بخاری کی دلائل دینے کی کوشش کی۔۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حمزہ شہباز کے وکیل کو دلائل دینے سے روک دیا۔۔حمزہ شہباز کے وکیل کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس صاحب میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ادب نہیں کریں گے تو ہمیں ادب کروانا آتا ہے۔ چیف جسٹس نے عائشہ احد اور حمزہ شہباز دونوں کو اپنے چیمبر میں طلب کر لیا۔

چیمبر میں دونوں سے ملاقات میں حمزہ شہباز اور عائشہ احد کے مابین معاملات طے پا گئے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز اور عائشہ احد کے مابین معاملات طے پا گئے ہیں، دونوں کے مابین راضی نامہ طے ہوگیا اور صلح ہو گئی ہے۔ فریقین ایک دوسرے کے خلاف مقدمات واپس لیں گے۔ چیمبر میں ہونے والے معاملات میڈیا پر نہیں آئیں گے نہ ہی فریقین میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف بیان دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جن شرائط پر راضی نامہ ہوا ان کو ہرگز منظر عام پر نہیں لایا جائے گا۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے عائشہ احد کیس نمٹا دیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان نے عائشہ احد کیس میں حمزہ شہباز اور عائشہ احد کو عدالت میں طلب کیا تھا،عائشہ احد کا دعویٰ ہے کہ حمزہ شہباز نے ان سے شادی کی تھی اور شادی کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

یاد رہے کہ عائشہ احد نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ حمزہ شہباز شریف نے ان کو ہراساں کیا ور ان پر تشدد بھی کیا تھا۔ 2جون کو حمزہ شہباز کی مبینہ اہلیہ انصاف کے لیے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچ گئی تھیں۔ جس پر سپریم کورٹ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ حمزہ شہباز دوپہر ایک بجے عدالت پہنچ جائیں۔تاہم وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ چیف جسٹس نے حمزہ شہباز کو طلب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ وہ شہباز شریف کو فون کر کے حمزہ شہباز کی پیشی کو یقینی بنائیں،کیونکہ ہم کسی کی جان کو خطرہ میں نہیں دیکھ سکتے۔

Your Thoughts and Comments