خاصہ دار فورس نے ملازمت ریگولرائز کرنے کا مطالبہ کردیا

خاصہ دار اہلکاروں کو نئی پولیس فورس کی تشکیل کے دوران بے دخل کیے جانے کا خدشہ ہے ،ْ صوبیدار میجر ولی محمد شلمانی

ہفتہ جون 14:19

لنڈی کوتل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) خیبرپختونخوا میں خاصہ دار فورس نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی ملازمتوں کو ریگولرائز کیا جائے اور انہیں بھی صوبے کی دیگر پولیس کی طرح متوازی سطح پر مراحات فراہم کی جائیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جمرود میں خاصہ دار فورس کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے بعد ان کو ملازمتوں سے فارغ کردیا جائے گا۔

اس حوالے سے اجلاس میں شامل شرکاء نے واضح کیا کہ انہیں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے ((فاٹا)) کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ ریگولرپولیس فورس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔صوبیدار میجر ولی محمد شلمانی نے کہا کہ خاصہ دار اہلکاروں کو نئی پولیس فورس کی تشکیل کے دوران بے دخل کیے جانے کا خدشہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ خاصہ دار فورس نے دہشت گردوں کے خلاف ناقابل تلافی نقصان برداشت کیا اور امن و امان کی بحالی کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے اس لیے انہیں بے دخل کرنا مناسب نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ولی محمد قبائلی علاقوں میں 2 ہزار 800 خاصہ دار فورس کی کمانڈ کرتے ہیں۔ولی محمد کا کہنا تھا کہ دار فورسز کی خدمات کو نظر انداز کرنا انتہائی قابل مذمت ہوگا۔خاصہ دار حکام جہانگیر خان نے بتایا کہ وہ گزشتہ 26 برس سے فرائض انجام دے رہے ہیں اور جمرود اور باڑا میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور خدمات پیش کیں تاہم اب صوبائی حکومت مجھ سمیت میرے ساتھیوں سے چھٹکارہ چاہتی ہے جبکہ ہماری آمدنی واحد ذریعہ یہی ہے۔

انہوںنے کہاکہ حکومت خاصہ دار فورسز کی قربانیوں کو نہیں بھلا سکتی ’میں اپنے اہلخانہ کے 6 افراد کھو چکا ہوں جب پولیو ٹیم کو بچاتے ہوئے دہشت گردوں نے خاصہ دار اور لیویز پر حملہ کیا۔لنڈی کوتل سے خاصہ دار افسر سفیر اللہ شنواری نے شکایت کی کہ ایجنسی ڈیولپمنٹ فنڈ پرپابند سے خاصہ دار فورسز کی کاررکردگی بری طرح متاثرہورہی ہے اور اب وہ پولیو ٹیم اور سرکاری حکام کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔انہوںنے کہاکہ ملازمت سے بے دخل کرنے سے خاصہ دار اہلکاروں اور ان کے اہلخانہ کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔