ازخود نوٹس کا واحد مقصد مسائل کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے،چیف جسٹس

عدالت میں جتنی درخواستیں آرہی ہیں وہ انتظامی ناکامی کی وجہ سے ہیں،جوڈیشل سسٹم کا مقصد انصاف دینا ہوتا ہے، سندھ کے لوگوں کو مستقبل میں اچھی صحت سے محروم ہونے کا خدشہ ہے، اسپتالوں میں آلات، دواں اور ورک فورس کے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں،چیف جسٹس پاکستان کا لاڑکانہ میں تقریب سے خطاب

ہفتہ جون 15:20

ازخود نوٹس کا واحد مقصد مسائل کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے،چیف جسٹس
لاڑکانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ازخود نوٹس کا واحد مقصد مسائل کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے، عدالت میں جتنی درخواستیں آرہی ہیں وہ انتظامی ناکامی کی وجہ سے ہیں،جوڈیشل سسٹم کا مقصد انصاف دینا ہوتا ہے، سندھ کے لوگوں کو مستقبل میں اچھی صحت سے محروم ہونے کا خدشہ ہے، اسپتالوں میں آلات، دواں اور ورک فورس کے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں، آج عدلیہ پر جو بوجھ اکٹھا ہوا اس میں کسی سیاسی جماعت کو نشانہ نہیں بنارہا، تعلیم کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا،سندھ کے لوگوںکو مسقبل میں اچھی صحت سے محروم ہونے کا خدشہ ہے ،۔

(جاری ہے)

ہفتہ کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشنل سسٹم کا مقصد انصاف فراہم کرانا ہے، تعلیم کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے،بار اور بینچ ایک جسم کا حصہ ہیں، جسے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے صاف پانی معاملے پر جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم کے اقدامات قابل تعریف ہیں، میں کسی سیاسی گورنمنٹ پر الزام نہیں لگارہا ہوں، سندھ کے لوگوں کو مستقبل میں اچھی قسمت سے محروم ہونے کا خدشہ ہے،ازخود نوٹس کا واحد مقصد مسائل کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے،اسپتالوں میں آلات ، دوائوں ، ورک فورس کے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہسپتالوں کے دورے زندگیاں بچانے کے لیے ہیں،وکلاء کا انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ہے، ماحول کا تحفظ اور صاف پانی کی فراہمی ناگزیر ہے۔