طاہر القادری اپنے مضبوط اتحادی عمران خان پربرس پڑے

اگرالیکٹیبلزضرورت تھے توپھر دھرنے کیوں دیے؟ اب چور اور ڈاکو پھر پارلیمنٹ کا حصہ بن جائیں گے،الیکشن میں حصہ لینا ہماری جدوجہد کی موت ہے۔سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹرطاہر القادری کی پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ جون 15:38

طاہر القادری اپنے مضبوط اتحادی عمران خان پربرس پڑے
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 جون 2018ء) : پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اپنے اتحادی عمران خان پربرس پڑے۔انہوں نے کہا کہ اگر الیکٹیبلز ضرورت تھے توپھر دھرنے کیوں دیے؟اب چور اور ڈاکو پھر پارلیمنٹ کا حصہ بن جائیں گے،،الیکشن میں حصہ لینا ہماری جدوجہد کی موت ہے۔انہوں نے آک یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکٹیبلز ضرورت تھے توپھر دھرنے کیوں دیے؟اب چور اور ڈاکو پھر پارلیمنٹ کا حصہ بن جائیں گے۔

الیکشن میں حصہ لینا ہماری جدوجہد کی موت ہے۔ بند کمرے میں سیاسی جماعتوں نے ترمیم کو سپورٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ نظام دھاندلی زدہ اور ظلم زدہ ہے اور کرپٹ کو تحفظ دیتا ہے جبکہ پی اے ٹی والے کچلنے والے نظام کا حصہ نہ تھے نہ ہیں اور نہ رہیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ الیکشن میں حصہ لینا ہماری جدوجہد کی موت ہے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی ٹکٹ جاری نہیں کریں گے اور امیدواروں کے جمع کرائے گئے کاغذات واپس لیں گے، ہم نے جمہوریت کی شفافیت کیلئے جدوجہدکی، سانحہ ماڈل ٹائون کا ہمیں آج تک انصاف نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ اصولوں کی جنگ جاری رکھیں گے، آرٹیکل 62،63 کا قتل عام ہوا اور اسی کے نام پر کاروبار چمکا، تمام جرائم پیشہ افراد دوبارہ اسمبلیوں کی سیٹوں پر بیٹھتے نظر آرہے ہیں۔ واضح رہے چیئرمین تحریک انصاف اور سربراہ عوامی تحریک نے الیکشن سے قبل ایک دوسرے کے ساتھ ملکر ہرپلیٹ فورم پرسیاسی جدوجہد اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کو انصاف دلانے سمیت الیکشن بھی ملکر لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔

دونوں جماعتوں نے الیکشن 2013ء میں دھاندلی اور کرپٹ نظام کیخلاف اسلام آباد میں دھرنے بھی دیے تھے۔ لیکن الیکشن قریب آتے ہی تحریک انصاف نے دوسری جماعتوں سے لوگوں کو لینا شروع کردیا۔ اور انتخابات ملکر لڑنے کا وعدہ کرکے عوامی تحریک سے کسی قسم کی کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ جس پرعوامی تحریک کے سربراہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور عمران خان کوتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔