اقوام متحدہ کا درعا شہر پر بمباری روکنے کا مطالبہ

حملوں کے نتیجے میں ہزاروں شہری بے گھر ہو کر اردن میں پناہ کے متلاشی ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

ہفتہ جون 16:26

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتیریس نے شام کے شہر درعا پر فوری بمباری روکنے کا مطالبہ کیا ہے،حملوں کے نتیجے میں ہزاروں شہری بے گھر ہو کر اردن میں پناہ کے متلاشی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتریس نے شام کے جنوب مغرب میں عسکری جارحیت کو فوری طور پر روک دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ رواں ہفتے اپوزیشن فورسز کے علاقوں پر شامی حکومت کی فوجی چڑھائی کے بعد سامنے آیا ہے۔گوتیریس کے ترجمان اسٹیفن ڈو جارک نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا کہ "ان حملوں کے نتیجے میں ہزاروں شہری بے گھر ہو گئے جن میں اکثریت اردن کی سرحد کا رخ کر رہی ہے۔ اقوم متحدہ کے سکریٹری جنرل ان حملوں کے باعث علاقے کی سکیورٹی کے لیے جنم لینے والے بڑے خطرات کے حوالے سے بھی تشویش محسوس کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے گروپ المرصد السوری نے جمعے کے روز بتایا کہ شامی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے ملک کے جنوب مغرب میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں پر بیرل بم گرائے۔ یہ گزشتہ ایک سال میں اس نوعیت کا گولہ بارود استعمال کرنے کا پہلا واقعہ ہے۔علاقے میں بشار کی فوج کے حملے میں اب تک توپوں سے گولہ باری اور فضائیہ کا محدود استعمال شامل تھا۔المرصد کے مطابق شامی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے درعا کے شمال مشرق میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول اراضی پر 12 سے زیادہ بیرل بم گرائے۔ اس کے نتیجے میں مادی نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

متعلقہ عنوان :