ضلعی ہیڈ کوارٹر آٹھمقام میں خالصہ سرکار پر اراضی تنازعہ

سابق وزراء میاں عبدالوحید، مفتی منصور الرحمان ،سابق صدر ڈسٹرکٹ بار میر گوہر الرحمان ڈپٹی کمشنر نیلم کے پاس پہنچ گئے

ہفتہ جون 17:06

نیلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) ضلعی ہیڈ کوارٹر آٹھمقام میں خالصہ سرکار پر اراضی تنازعہ سابق وزراء میاں عبدالوحید، مفتی منصور الرحمان ،سابق صدر ڈسٹرکٹ بار میر گوہر الرحمان ایڈووکیٹ ڈپٹی کمشنر نیلم کے پاس پہنچ گئے دو گھنٹے سے زائد طویل مزاکرات ڈپٹی کمشنر ڈٹ گئے ہر صورت خالصہ سرکار کو قبضہ مافیہ سے واگزار کیا جائے گا غیر قانونی شلٹر کسی صورت قبول نہیں خالصہ سرکار پر کسی بھی قسم کی تعمیرات پر مکمل پابندی عائد ہے وزیر اعظم آزاد کشمیر نے سختی سے احکامات صادر فرمائے ہیں انتظامی رٹ بحال رکھی جائے گی ۔

کسی ایک کو رعائت دیں گے تو اس کی مثال بناکر دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں گے خالصہ جات کی الاٹمنٹ کے حوالے سے بہت سی فائلیں زیر پراسز ہیں مذکورہ لوگ بھی پراسز کریں پابندی اٹھتے ہی انہیں الاٹ کردی جائے گی غیر قانونی جابرانہ قبضہ نہیں ہونے دیں گے مذکورہ خسرہ کسی کو بھی الاٹ نہیں ہوگا اگر ہوا تو پہلے ان ہی لوگوں کو دیا جائے گا غیر قانونی شلٹر از خود اکھیڑ دیا جائے ورنہ بذریعہ فورس اکھیڑیں گے ،عورتوں اور بچوں کو ڈھال بناکر استعمال کرنا صریحاً غلط ہے کسی کو قانون کیساتھ کھلواڑہ نہیں کرنے دیں گے اس موقع پر سابق وزراء میاں عبدالوحید ،مفتی منصور الرحمان نے ڈی سی نیلم سے کہا کہ نیلم میں خالصہ جات پر پہلا حق نیلم کے لوگوں کا ہے نیلم کے لوگوں سے خالصہ سرکار سے قبضہ چھڑا کر بیرون ضلع کے لوگوں کو قابض کرنا حق تلفی ہے ڈپٹی کمشنر لاء اینڈ آرڈر کی پوزیشن بہتر رکھنا چاہتے ہیں تو معاملہ خوش سلوبی سے حل کریں جذبات سے نہ کھیلا جائے ،عرصہ دراز سے آباد لوگوں کو مالکانہ حقوق دیے جائیں نیلم ویلی کے رقبہ جات پر بیرون ضلع سے مافیہ قبضہ کررہا ہے انہوں نے ڈی سی نیلم سے واضح کہا کہ عجلت سے کام نہ لیا جائے نقصان ہوا تو ہم متاثرہ لوگوں کیساتھ سڑکوں پر آئیں گے ہم نہیں چاہتے کہ نیلم ویلی کی پر امن فضاء خراب ہو،نیلم ویلی میں سیاحوں کا راستہ روکا جائے لیکن انتظامیہ مجبور کرنا چاہتی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم آزاد کشمیر سے ملاقات کرکے معاملہ اٹھائیں گے ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا اور انتظامیہ کا ٹکرائو ہو ۔ایم ایل اے حلقہ نیلم نے اقتدار سنبھالتے ہی اداروں اور عوام کو لڑانے کی جو پالیسی استعمال کررکھی ہے وہ قابل مذمت ہے سپیکر اسمبلی اپنے مذموم مقاصد کے لیئے انتظامیہ کا کندھا استعمال نہ کریں

متعلقہ عنوان :