نیلم ‘ٹائون کمیٹی پٹہکہ کی چونگیوں پر سیاحوں اور تاجروں کو لوٹا جانے لگا

20 روپے کی بجائے ایک سو سے پانچ سو تک فی گاڑی تک بٹورے جانے لگے، حکومت انتظامیہ تماشائی بن گئی

ہفتہ جون 17:06

نیلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) ٹائون کمیٹی پٹہکہ کی چونگیون پر سیاحوں اور تاجروں کو لوٹا جانے لگا ، 20 روپے کے بجائے ایک سو سے پانچ سو تک فی گاڑی تک بٹورے جانے لگے، حکومت انتظامیہ تماشائی بن گئی۔ تفصیلات کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد سے وادی نیلم آنے اور جانے والی ٹرانسپورٹ اور پبلک گاڑیوں کو ٹائون کمیٹی پٹہکہ کے اہلکارون نے دو جگہوں پر غیر قانونی چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں۔

جمپ اور غیر قانونی بیرئیر لگا کر ہر قسم کی ٹریفک کو روک لیا جاتا ہے۔ چونگی فیس صرف 20 روپے ہے۔ لیکن ٹائون کمیٹی نے محصولات کی وصولی کے لئے ٹھیکہ ایک خاتون وزیر کے چہتے کو دے رکھا ہے۔ چونگیوں پر تعینات اہلکار کسی بھی گاڑی کو بھتہ وصول کئے بغیر نہیں جانے دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

گاڑیوں کوروک کر اضافی رقم ادا نہ کرنے والوں کے ساتھ گالم گلوچ ہاتھا پائی پت اتر آتے ہیں۔

۔ لوٹ مار سے سب سے زیادہ سیاح متاثر ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ گاڑیوں میں فیملیز کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ہے۔ تاجرون کے وفد نے بتایا کہ ٹھیکیدار اور اہلکار راتوں رات کروڑ پتی بننے کے چکروں میں حکومت کی پشت پناہی میں لوٹ مار کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اعتراض کرنے پر فاروق حیدر کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ قانونی ٹیکس صرف 20 روپے ہے لیکن 100 یا 500 وصول کرنا کسی جگہ کا انصاف نہیں ہے۔ تاجروں نے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور کمشنر مظفرآباد سے نوٹس لینے کی استدعا کی ہے۔

متعلقہ عنوان :