آزاد حکومت کا میرپور سے سوتیلی ماں جیسا سلوک ناقابل قبول ‘ہر دور حکومت میں میرپور کو نظر انداز کیا گیا ‘ضلع میرپور کی خالی آسامیوں پر میرپور میں ٹیسٹ ہونے کی بجائے مظفرآباد میں ٹیسٹ ہونا میرپور کے نوجوانوں کیساتھ ظلم و زیادتی ہے

سابق میڈیا ایڈوائزر صدر آزادکشمیر خالد محمود خالق کی صحافیوں سے بات چیت

ہفتہ جون 17:13

بریڈفورڈ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) سابق میڈیا ایڈوائزر صدر آزادکشمیر خالد محمود خالق نے کہا ہے کہ آزاد حکومت کا میرپور کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ناقابل قبول ہے ہر دور حکومت میں میرپور کو نظر انداز کیا گیا ہے ضلع میرپور کی خالی آسامیوں پر میرپور میں ٹیسٹ ہونے کی بجائے مظفرآباد میں ٹیسٹ ہونا میرپور کے نوجوانوں کیساتھ ظلم و زیادتی ہے اور میرپور رکے مقامی وزیروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے میرپور کی خالی آسامیوں پر صرف اور صرف میرپور کے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے دوسرے اضلاع سے نوجوان کو بھرتی کر کے میرپور کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے۔

وزیر حکومت چوہدری محمد سعید ،وزیر حکومت سردار خالد مسعود اور ممبر اسمبلی چوہدری رخسار اپنے عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز بلند کریں اگر ایسا نہ کیا گیا تو ضلع میرپور کے عوام انہیں کبھی معاف نہیں کریگی ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ضلع میرپور کو ہمیشہ سونے کی چڑیا سمجھ کر لوٹا گیا ہے میرپور کے پڑھے لکھے نوجوان نوکریوں کے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اگر ضلع میرپورمیں کوئی آسامی خالی ہوتی ہے تو اس خالی آسامی پر میرپور کے شہری کو تعینات کرنے کے بجائے دوسرے اضلاع سے مند پسند افراد کو تعینات کر دیا جاتا ہے جو میرپور عوام کے ساتھ کرین انصافی ہے میرپور کے وزیر ہوش کے ناخن لیں اور میرپور کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو اپنے اضلاع میں نوکریاں فراہم کریں تا کہ نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی دورہو سکے ۔

انہوں نے کہا کہ میرپور کا تو یہ المیہ ہے میرپور کی ایسی بہت سی آسامیاں ہیں جو ضلع سے باہر مہاجرین مقیم پاکستان و آزاد کشمیر کے دوسرے اضلاع کے لوگ نوکریاں کر رہے ہیں۔ جبکہ میرپور کے عوام کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دارلخلافہ مظفرآباد ہے اکثر ملازمتوں کے نوٹیفکیشن ادھر سے جاری ہوتے ہیں اور آسامیوں پر بھرتی کے احکامات بھی ادھر مظفرآباد ہی سے ہو جاتے ہیں۔

اگر میرپور کے حکمران مخلص ہیں تو میرپور کے اندر تمام سرکاری ادارہ جات کا سروے کرے تو ان کو شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اکثریتی بڑے بڑے اور چھوٹے چھوٹے عہدوں پر باہر کے لوگ ہیں میرپور کے وہ امیداران جو خواہ کسی بھی پارٹی ٹکٹ یا پھر آزادحیثیت سے الیکشن لڑتے ہوں کم از کم اس مسئلہ پر یکجا ہوکر کام کریں اور صحیح معنوں میں عوامی نمائندہ اور چوکیدار عوام کو ہونے کا حق ادا کریں تاکہ میرپور کے اندر صحیح معنوں میں منی لندن جیسا ماحول ہوجائے ۔

متعلقہ عنوان :