پاکستان مسلم لیگ(ن) ٹیکسلا میں بھی منقسم ، پارٹی 2 کیمپوں میں تقسیم

ہفتہ جون 18:31

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) ٹیکسلا میں بھی امیدواروں کی نامزدگیوں پر منقسم دکھائی دیتی ہے اور پارٹی کے کارکنان دو کیمپوں میں تقسیم ہوگئے ہیں ۔ ایک کی قیادت سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور دوسرے کی قیادت پارٹی کے راولپنڈی چپٹر کے صدر سردار ممتاز خان کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق چودھری نثار علی خان جنہوں نے 2013 کے الیکشن میں 102142 ووٹ حاصل کئے تھے اب قومی و صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں کے لئے آزاد امیدوار کے طور پر لڑ رہے ہیں اس کی وجہ پارٹی قیادت کے ساتھ ان کے اختلافات ہیں۔

سردار ممتاز جو کہ دوسرے کیمپ کی رہنمائی کر رہے ہیں قومی اسمبلی کی نشست کے لئے پارٹی کی اعلی کمان سے ٹکٹ کے منتظر ہیں تاہم اس صورت حال نے مقامی رہنمائوں اور مقامی کارکنان کے درمیان بے یقنی کی کیفیت پیدا کر دی ہے اگر پارٹی ممتاز کو ٹکٹ دیتی ہے تو اس کے ووٹ تقسیم ہو جائیں گے ۔

(جاری ہے)

جس سے پی ٹی آئی کے غلام سرور کو فائدہ پہنچے گا جنہوں نے اس حقیقت کے باوجود گزشتہ انتخابات میں چودھری نثار کو شکست دی تھی کہ موخر الذکر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار تھے ایسے میں دونوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور چودھری نثار گروپ نے صوبائی اسمبلیوں کے ٹیکسلا اور واہ کینٹ کی پی پی 19 اور پی پی 20 کے صوبائی اسمبلیوں نشستوں کے لئے اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا ہے اور خواہش مند امیدوار اپنی انتخابی مہم شروع نہیں کر سکے ہیں ۔

سنی تحریک ، تحریک لبیک پاکستان اور فیصل اقبال کا پریشر گروپ بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بنک کو متاثر کرے گا ۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ووٹوں کی تقسیم سے پی ٹی آئی کو فائدہ پہنچے گا ۔ چودھری نثار اور غلام سرور کے درمیان سخت سیاسی مقابلہ ہوتا آ رہا ہے ۔ ۔