کراچی میں بینک ڈکیتیوں میں ملوث گروہ گرفتار کرلیا گیا

بینک لوٹنے والے ملزمان کا تعلق کے پی کے سے ہے،ملزمان کراچی میں واردات کرنے کے بعد سرحدی علاقوں میں فرار ہوجاتے تھے فیروز آباد میں بینک ڈکیتی کے دوران بینک منیجر کے قتل میں بھی یہی گروپ ملوث ہے،قتل میں ملوث ملزمان کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی ہوئی،ایس ایس پی ایس آئی یو

ہفتہ جون 20:06

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) کراچی میں بینک ڈکیتیوں میں ملوث گروہ گرفتار کرلیا گیا،بینک لوٹنے والے ملزمان کا تعلق کے پی کے سے ہے،ملزمان کراچی میں واردات کرنے کے بعد سرحدی علاقوں میں فرار ہوجاتے تھے،فیروز آباد میں بینک ڈکیتی کے دوران بینک منیجر کے قتل میں بھی یہی گروپ ملوث ہے،،قتل میں ملوث ملزمان کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی ہوئی ہے،یہ بات ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پیر فرید جان سرہندی نے پریس کانفرنس کے دوران بتائی،انہوں نے کہا کہ ایس آئی و 2017میں ہونے والی بینک ڈکیتیوں میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے مسلسل کام رہی تھی کہ ہمیں باوثوق زرائع سے اطلاع ملی کہ ان وارداتوں میں ملوث گروہ کا ایک کارندہ محبوب الرحمٰن ولد عنایت الرحمٰن اس وقت اکے پی کے میں اپنے آبائی علاقے چارسدہ کے قریب لاچی میں موجود ہے ملزم کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی میں نے ایس آئی یو پولیس کی تجربہ کار افسران و ملازمین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی ،اور صوبائی حکومت کی اجازت حاصل کرنے کے بعد ٹیم کو کے پی کے روانہ کیا ،کے پی کے جاکر مذکورہ ٹیم نے اپنی محنت اور جاںفشانی سے ملزم ملزم محبوب الرحمٰن کو گرفتار کیا اور اسے کراچی لے کر آگئے،،گرفتار ملزم سے جب تفتیش کی گئی تو اس نے انکشاف کیا کہ میرے دیگر تین ساتھی اظہر مقصود عرف حاجی،نور اسلم عرف گل اور ایاز خن اس وقت سینٹرل جیل کراچی میں ہیں یہ تینوں ملزمان گلشن اقبال میں 2018میں ہونے والی بینک ڈکیتی میں ملوث ہیں ،ملزم کے اس انکشاف پر ہم نے ملزمان کو جیل سے پولیس ریمانڈ پر نکالا دوران تفتیش ملزمان نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق ڈکیتوں کے بین الصوبائی گروہ سے ہے ،جو 28افراد پر مشتمل ہے ،ملزمان نے بتایا کہ کے پی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں اب تک ہمارا گروہ20سے زائد بینک ڈکیتیاں کرچکا ہے ،ملزم،ان نے دوران تفتیش یہ بھی بتایا کہ ہمارا گروہ3چھوٹے گروپس کی شکل میں کام کرتا ہے جن میں سے بایک گروہ کو ضلع کوہاٹ کا رہائشی عبدالرشید ،دوسرے گروہ کو تحصیل لاچی کا رہائشی سعود الرحمٰن،جبکہ تیسرے گروہ کو چار سدہ کا رہائشی مقصود چلاتا ہے اور ان تینوں گروہوں کی نگرانی ضیا اللہ نامی شخص کرتا ہے ۔

(جاری ہے)

ایس ایس پی SIUنے بتایا کہ ملزمان نے دوران تفتیش مزید انکشاف کیا ہے کہ 2017میں فیروزآباد کے علاقے میں قائم بینک میں دوران ڈکیتی مزاحمت پر ملزم ایاز خان نے بینک مینجر کو گولی ماردی جس میں بینک مینجر جاںبحق ہوگیا تھا ،اسی طرح ملزم ایاز خان نے اپنے گائوں کے ایک رہائشی کو صرف اس لیے گولی مار کر ہلاک کردیا کیوںکہ اس نے 2018میں بینک ڈکیتی کی جو سی سی ٹی وی میڈیا پر دکھائی گئی تھی اس کے زریعے مقتول نے اسے پہچان لیا تھا ،ملزمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کے کارندے بینک کی پوری ریکی کرکے گروہ کے سرغنہ کو بتایا کرتے تھے اور گروہ کا سرغنہ گروہ کے چند لوگوں کو بزریعہ ہوائی جہاز بینک ڈکیتی سے ایک دن قبل بھیجا کرتا تھا اور بینک ڈکیتی کی واردات کرکے فوری جہاز پر تمام افراد واہس اپنے شہر چلے جایا کرتے تھے ،،ایس ایس پیSIUپیر فرید جان سرہندی نے مزید بتایا کہ یہ گروہ قتل،،اقدام قتل،،بینک ڈکیتی اور گاڑیوں چھیننے کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہے ملزمان سے مزید تفتیش کی جارہی ہے تاکہ ان کے دیگر ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا جاسکے ،انہوں نے کہا کہ کراچی شہر میں 2017اور2018میں کی گئی تمام بینک ڈکیتیوں کے مقدمات میں ملزمان گرفتار کیے جاچکے ہیں ۔