صنعت و تجارت سے وابستہ افراد معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ،وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ میں ایکسپو سینٹر کے قیام کے لئے زمین کی الاٹمنٹ آئندہ چند روز تک کردی جائے گی سی پیک کی ضروریات کے مد نظر بلوچستان کو ہنر مند اور چائنیز زبان سمجھنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد میں ضرورت ہے ہم بلوچستان بینک کے قیام کے لئے بھی کوشش کررہے ہیں تاکہ یہاں کے لوگوں کے رقوم یہی پر ہی لگائے جاسکے، نگران وزیر اعلی کا بلوچستان چیمبر کے عہدیداران سے خطاب وزیراعلیٰ بلوچستان کی صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کے لئے خیبر پشتونخوا کی طرز پر ٹیکسز چھوٹ و دیگر مراعات دیں، چیمبر اراکین

ہفتہ جون 21:22

.کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علائو الدین مری نے کہا ہے کہ صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کسی ملک اور صوبے کی معیشت اور معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ، کوئٹہ میں ایکسپو سینٹر کے قیام کے لئے زمین کی الاٹمنٹ آئندہ چند روز تک کردی جائے گی بلکہ صوبے کی صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کو بینکنگ سے متعلق درپیش مشکلات کو رواں ماہ کے آخر یا پھر جولائی کے شروع میں کوئٹہ میں ہونے والے بینکنگ کانفرنس میں اجاگر کیا جائے گا ، سی پیک کی ضروریات کے مد نظر بلوچستان کو ہنر مند اور چائنیز زبان سمجھنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد میں ضرورت ہے اس وقت بھی درجنوں نوجوانوں کو چائنیز زبان سیکھنے ودیگر کے لئے چائنا بھجوایا جاچکا ہے ، بوستان انڈسٹریل زون کا جلد افتتاح کروں گا ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان میں چیمبر کے عہدیداران اور اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس سے قبل چیمبر آف کامرس کے پیٹرن ان چیف غلام فاروق خان اور سینئر نائب صدر ایوب خان خلجی ، نائب صدر طاہر خان اچکزئی ، ایگزیکٹیو ممبران و عہدیداران نے نگران وزیراعلیٰ بلوچستان کا استقبال کیا بلکہ پیٹرن ان چیف غلام فاروق خان اور سینئر نائب صدر محمد ایوب خلجی نے وزیر اعلیٰ کو بتا یا کہ چیمبر آف کامرس کے تقریباً 4 ہزار ممبران ہیں جو صوبے اور ملک میں قانونی تجارت کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں بلکہ انہی کے کوششوں سے ہی صوبے کے تجارت سے وابستہ افراد کے بہت بڑی تعداد ٹیکس دینے پر آمادہ ہوئی ہے ۔

اسی لئے دیئے گئے 18ارب روپے کے ٹیکس رونیو کے ٹارگٹ کوحاصل کرلیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ صوبہ نہ صرف پھلوں اور سبزی جات کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے بلکہ یہ معدنیات کے ذخائر سے بھی مالا مال ہے ۔ یہی نہیں بلوچستان میں سینکڑوں کلو میٹر ساحل ہے بلکہ سی پیک جیسے عظیم منصوبے کا صدر دروازہ بھی گوادر ہی ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ وفاقی سطح پر تجارت سے متعلق پالیسی اور بجٹ سازی سمیت مختلف امور کے حوالے سے چیمبر آف کامرس کے عہدیداران اور ممبران کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا ۔

انہوں نے کہاکہ صوبے میں کم شرح خواندگی سمیت دیگر مسائل موجود ہیں بلکہ یہاں صنعت کاری کا شعبہ بھی سخت مشکلات کا شکار ہے ۔ ملک کے دیگر صوبوں اور بڑے شہروں کے تجارت سے وابستہ افراد کے مقابلے کے لئے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کو بارڈر ٹریڈ پر 30 فیصد ٹیکس ویلیوایشن دی جائے بلکہ صوبے میں سی پیک منصوبے کے پیش نظر ڈیوٹی فری زونز ودیگر قائم کئے جائیں ۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں صنعت کار مشکلات سے دوچار ہیں انڈسٹریل زون میں سیکورٹی اور دیگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کے لئے خیبر پشتونخوا کی طرز پر ٹیکسز چھوٹ و دیگر مراعات دیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک گیر سطح پر چیمبر آف کامرس کے حوالے سے بلوچستان کے صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کے کردار سے انکار ممکن نہیں ، اب ملکی سطح پر صوبے کے 55 ووٹ ہیں ۔

انہوں نے سکل لیبر کی تیاری اور بلوچستان کے نوجوانوں کو چائنیز زبان سکھانے کے لئے انہیں چائنا بھیجنے کے لئے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ کوئٹہ میں ایکسپو سینٹر کے قیام کے لئے وفاقی وزارت تجارت کی جانب سے ایک ارب روپے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن کئی سال گزر جانے کے باوجود بھی اس کے لئے سرکاری سطح پر اراضی کا بندوبست نہیں ہوسکا ہے اگر چہ اس سلسلے میں مو جو دہ نگران وزیر اعلیٰ علائو الدین مری نے گزشتہ دنوں ہدایات دے رکھی ہیں جو ہمارے حوصلہ افزاء ہے بلکہ ہم ان کے شکر گزار بھی ہیں ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علائو الدین مری کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایکسپو سینٹر کے لئے 30 ایکڑ اراضی الاٹ کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ اس سلسلے میں آئندہ چند روز میںاراضی کی الٹمنٹ کا کا م مکمل کرلیا جائے گا ہم چاہتے ہیں کہ کوئٹہ میں ایک جدید اسٹیٹ آف دی آرٹ ایکسپو سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ پی ایس ڈی پی میں بھی فنڈز مختص کردیئے گئے ہیں ۔

کسی بھی ملک اور صوبے کی معیشت میں صنعت و تجارت سے وابستہ افراد ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں کسی بھی ملک اور معاشرے میں صنعت و تجارت سے وابستہ افراد جتنے مالی طور پر مستحکم ہوں گے و ہ ملک اور صوبہ معاشی طور پر اتنا ہی خوشحال ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ انتخابات قریب ہے اس لئے صنعت و تجارت سے وابستہ افراد اور عوام روایتی سیاست سے نکل کر ان امیدواروں کو ووٹ کریں جو ان کی حقیقی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں اسلحے کی نہیں بلکہ اقتصادی جنگ ہے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ایک دوسرے کے خلاف اسلحہ استعمال کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے اقتصادی میدان میں آگے نکلنے کے کوششوں میں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بوستان انڈسٹریل زون کا جلد ہی افتتاح وہ خود کرینگے وہ سرکاری روایتی اداروں سے پہلے مطمئن تھے اور نہ ہی اب مطمئن ہے ۔ میں پراپرٹی بیسڈ زونز اور کاروبار کے حق میں نہیں اکثر اکنامک زونز ودیگر کی اراضی بھکتی رہی ہے ۔

سابقہ صوبائی حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے حوالے سے بل پاس کیا ہے جس کے کلاز بنائے جارہے ہیں جن پر چیمبر آف کامرس کے عہدیداران اور ممبران نظر رکھیں تاکہ ان کی تجاویز کو بھی شامل کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ خزانہ کی جانب سے انہیں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے کے لئے 2سو 40 ارب غیر ترقیاتی جبکہ 40 ارب روپے ترقیاتی بجٹ ہے ۔

اب بتایا جائے کہ 40 ارب روپے سے کیسے صوبے میں ترقیاتی عمل آگے بڑھے گا ۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کا ہائپ کرئیٹ کیا گیا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ سی پیک سے متعلق یہاں کے اداروں سے معلومات لینے کے بعد مجھ پر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ یہاں کے ادارے اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں جانتے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے چیمبر آف کامرس کے عہدیداران اور ممبران ملکی سطح پر چیمبرز میں کردار ادا کریں اور اس سلسلے میں صوبے کے مختلف اضلاع میں چیمبر آف کامرس کو فعال کریں ۔

انہوں نے کہا کہ بینکنگ نظام سے متعلق صنعت کاروں اور تجارت پیشہ افراد کو درپیش مشکلات و مسائل کے حوالے سے اس ماہ کے آخر یا جولائی کے شروع میں کوئٹہ بینکنگ کانفرنس منعقد ہورہی ہے جس میں تمام مسائل اور مشکلات اسٹیٹ بینک اور دیگر حکام کے روبرو رکھیںگے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان بینک کے قیام کے لئے بھی کوشش کررہے ہیں تاکہ یہاں کے لوگوں کے رقوم یہی پر ہی لگائے جاسکے ۔

انہوں نے کلکٹر کسٹم کو طلب کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو چائنیز زبان سکھانے اور تربیت یافتہ بنانے کے لئے چائنا بھجوانے کا سلسلہ جاری ہے کچھ عرصہ قبل ہی صوبے سے 23 نوجوانوں کو چائنا بھجوایا گیا ہے جو وہاں چائنیز زبان سیکھنے سمیت دیگر سیکھ رہے ہیں ۔ اس موقع پر نگران صوبائی وزیر فرزانہ بلوچ نے تجویز دی کہ گوادر میں ہونیوالی سرگرمیوں میں مقامی چیمبرز کو شامل کیا جائے تو معاملات بہت حد تک درست ہوں گے ۔ اس موقع پر سابق وزیر عاصم کرد گیلو سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے ۔ تقریب کے آخر میں چیمبر آف کامرس کی جانب سے وزیراعلیٰ بلوچستان کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی ۔