تحریک انصاف نے بھی طاہر القادری کی پریس کانفرنس پر رد عمل دے دیا

ہماری اورطاہرالقادری کی سوچ میں فرق ہے،ہم آئین کومقدم مانتےہیں،طاہرالقادری کہتےہیں نظام ہی صحیح نہیں ہے،ترجمان تحریک انصاف فوادچودھری

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس ہفتہ جون 20:43

تحریک انصاف نے بھی طاہر القادری کی پریس کانفرنس پر رد عمل دے دیا
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 جون 2018ء) ::پاکستان تحریک انصاف نے بھی طاہر القادری کی پریس کانفرنس پر رد عمل دے دیا۔ترجمان تحریک انصاف فوادحسین چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم ہماری اورطاہرالقادری کی سوچ میں فرق ہے،ہم آئین کومقدم مانتےہیں،،طاہرالقادری کہتےہیں نظام ہی صحیح نہیں ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستانی سیاست میں سیاسی کزنز کی حیثیت سے پہچانے جانے والے عمران خان اور طاہرالقادری میں فاصلے بڑھنے لگے۔

آج کی پریس کانفرنس اور اس پر تحریک انصاف کا ردعمل بتا رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے ایک دوسرے سے راہیں جدا کرنے کی ٹھان لی ہے۔آج صبح پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان عوامی تحریک اکے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ اگر الیکٹیبلز ضروری تھے توپھر دھرنے کیوں دیے؟اب چور اور ڈاکو پھر پارلیمنٹ کا حصہ بن جائیں گے،،الیکشن میں حصہ لینا ہماری جدوجہد کی موت ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے آک یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکٹیبلز ضرورت تھے توپھر دھرنے کیوں دیے؟اب چور اور ڈاکو پھر پارلیمنٹ کا حصہ بن جائیں گے۔۔الیکشن میں حصہ لینا ہماری جدوجہد کی موت ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا ۔تاہم پاکستان تحریک انصاف نے بھی طاہر القادری کی پریس کانفرنس پر رد عمل دے دیا۔ترجمان تحریک انصاف فوادحسین چوہدری کا کہنا تھا کہ ہماری اورطاہرالقادری کی سوچ میں فرق ہے۔

ہم آئین کومقدم مانتےہیں،،طاہرالقادری کہتےہیں نظام ہی صحیح نہیں ہے۔۔طاہرالقادری آئین سےباہرکی چیزیں سوچتےہیں۔انکا کہنا تھا کہ الیکٹیبلزپی ٹی آئی میں بھی آئے،دوسری پارٹیوں میں بھی۔۔الیکشن میں بنیادی بات علاقےکےمسائل کوسامنےرکھناہے۔یاد رہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری کو سیاسی کزنز کہا جاتا ہے اور دونوں ایک ساتھ 2014 میں دھرنا بھی دے چکے ہیں اور لاہور میں متحدہ اپوزیشن الائنس میں بھی ایک دوسرے کے حامی رہے ہیں۔