کوئٹہ، انتخابات میں کسی کو بھی گڑھ بڑھ کرنے کی اجازت نہیں دینگے، عثمان کاکڑ

فاٹا خیبرپختونخوا انضمام ایک تاریخی جبر ہے منتخب حکومت کو سازش کے تحت گرایا گیا غیرجمہوری قوتوں کے ساتھ جمہوری قوتوں نے بھی ساتھ دیا جنہوں نے ہمیشہ جمہوریت کی بالادستی کے لئے جدوجہد کی ہے، صوبائی صدر پشتونخواملی عوامی پارٹی

ہفتہ جون 22:09

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ موجودہ انتخابات میں کسی کو بھی گڑھ بڑھ کرنے کی اجازت نہیں دینگے عوام کی طاقت سے ہی منتخب نمائندے کا احترام کیا جائیگا تو یہ سب سے زیادہ خطرناک کھیل ہوگا اور اس کھیل کو ہم کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے انتخابات ہونگے 71 جیسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے پشتونوں کے حقوق کے لئے ہمیشہ پشتونخوامیپ نے کردار ادا کیا ہے صوبہ میں منتخب حکومت کو سازش کے تحت گرایا گیا غیرجمہوری قوتوں کے ساتھ ساتھ ان جمہوری قوتوں نے بھی ساتھ دیا جنہوں نے ہمیشہ جمہوریت کی بالادستی کے لئے جدوجہد کی ہے اور صوبہ میں بلوچستان عسکری پارٹی بنا کر ایک بار پھر صوبہ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے فاٹا خیبرپختونخوا انضمام ایک تاریخی جبر ہے عوام کے مطالبے پر فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم نہیں کیا بلکہ کسی اور کی خواہش پر یہ ظلم اور جبر کی تاریخ رقم کر دی موقع ملا تو فاٹا کو دوبارہ الگ کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے’’ آن لائن‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے کہا کہ موجودہ انتخابات سب سے زیادہ خطرناک ہونگے اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کے انتخابات کرانا چاہتے ہیں پشتونخواملی عوامی پارٹی ایسے کسی بھی انتخابات کے حق میں نہیں ہے جو کہ عوام کی پرچی کے بغیر کسی اور کی پرچی پر ان امیدواروں کو کامیاب کرایا جائے جو جمہوریت کے خلاف ہو انہوں نے کہا کہ 71 جیسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے صوبہ کے عوام ان کے خلاف مزاحمت کریں یا نہ کریں لیکن پشتون قوم ان کے خلاف ضرور میدان عمل میں نکلے گی اور ووٹوں کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ملک میں جب تک حقیقی حکمرانی نہیں ہوگی اس وقت تک ملک کے حالات بہتر نہیں ہوسکتے اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی اور عوام اپنی مرضی کے انتخابات کرانا چاہتے ہیں اب عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی مرضی پر جائیں گے یا ان کی مرضی پر جائیں گے جنہوں نے ہمیشہ ملک میں جمہوری نظام کو پنپنے نہیں دیا انہوں نے کہا کہ پشتونوں میں باپ کا بڑا احترام اور عزت والا رشتہ ہے مگر یہاں پر کچھ قوتیں باپ کو بدنام کرنے کی کوششیں کرکے ایسی پارٹی تشکیل دے رہی ہیں جن میں زبردستی لوگوں کو شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے پارٹیوں کو توڑتے اور بناتے ہیں جمہوری قوم پرست دوست پارٹیوں کو دیوار سے لگانے کی جو کوشش کی جارہی ہے اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے کراچی میں پاک سرزمین اور سندھ میں جمہوری قوتوں کے خلاف اپنی مرضی کا اتحاد بنایا گیا اور دوسری طرف تحریک انصاف جماعت ہے جن کے عہدیدار خود ڈمی ہیں اور ان کے پیچھے طاقتور لوگ کھڑے ہیں اور تیسری طرف بلوچستان میں عسکری پارٹی تشکیل دی گئی جو کہ عوام کے حقوق کے ساتھ ایک مذاق ہے صوبہ میں 3 سال سے یہ سلسلہ جاری تھا اور جمہوری منتخب حکومت کو ختم کیا اور جمہوری روایات کا خیال نہیں رکھا گیا حکومت بنانے اور ختم کرنے کا اختیار صرف یہاں کے عوام سے منتخب کردہ نمائندوں کے پاس ہے کسی اور کے پاس نہیں ہے صوبہ میں 6 آزاد سینیٹرز کس طرح منتخب ہوئے سب کو معلوم ہے اور تمام وہ سیاسی و جمہوری جماعتیں شریک ہیں جو دعوے کررہے ہیں ہم جمہوریت کے چیمپئن ہیں پشتونخوامیپ کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے اس گناہ میں شریک ہو کر صوبہ میں جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا انہوں نے کہا کہ عسکری پارٹی میں ان لوگوں کو شامل کیا گیا نسل در نسل اقتدار میں کسی نہ کسی طریقے سے شامل ہوئے انہوں نے کہا کہ پشتونوں کی بربادی کے لئے بہت سے منصوبے بنائے گئے ہیں اور پشتونوں کا قتل عام کیا جارہا ہے اس پالیسی کو اب ترک کرنا چاہئے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرکے تاریخی جبر کر دیا اور اس جبر کے خلاف ہم ہمیشہ آواز اٹھاتے رہیں گے انہوں نے کہاکہ عوام کے مطالبے پر فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم نہیں کیا بلکہ کسی اور کی خواہش پر یہ ظلم اور جبر کی تاریخ رقم کر دی موقع ملا تو فاٹا کو دوبارہ الگ کریں گے۔