چوہدری نثار نے جلسے سے خطاب کے دوران بابا بلھے شاہ اور دیگر شاعروں کے شعر پڑھے

ہفتہ جون 22:09

چک بیلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جلسے سے خطاب کے دوران بابا بلھے شاہ اور دیگر شاعروں کے شعر پڑھتے رہے اور کارکنوں کا لہو گرماتے رہے ، انہوں نے مقامی زبان پوٹھوہاری میں بھی کارکنوں سے خطاب کیا۔ ہفتہ کو چک بیلی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی نے بابا بلھے شاہ اور دیگر شاعروں کے شعر بھی پڑھے اور دوران خطاب کارکنوں کا لہو گرماتے رہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے مقامی زبان پوٹھوہاری میں بھی جلسہ سے خطاب کیا ۔ چوہدری نثار نے شعر پڑھا کہ جسے طوفان سے الجھنے کا ہو شوق ایسی کشتی کو سمندر بھی دعا دیتے ہیں پھر انہوں نے شعر پڑھا کہ اپنے قد پہ جو کھڑا ہوں یہ تیرا کرم ہے مجھے جھکنے نہیں دیتا سہارا تیرا چوہدری نثار نے جلسے کے آخر میں بابا بلھے شاہ کا کلام بھی پڑا کہ جے میں ویکھاں اپنڑے عملاں ولے کجھ نہیں پلے ، کجھ نہیں پلے جے میں ویکھاں تیرے ولے ،بلے ہی بلے بلے ہی بلے