بار اور بینچ ایک جسم کے حصے ہیں جسے الگ نہیں کرسکتا، جوڈیشل سسٹم کا کام صرف عوام کو انصاف فراہم کرنا ہے، ثاقب نثار

تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتا، ملک میں بڑے مسائل ہیں ان پر چپ نہیں رہ سکتا، ازخود نوٹس لینا کا مقصد انسانی حقوق سے آگاہی ہے ،ْچیف جسٹس آف پاکستان

ہفتہ جون 22:09

بار اور بینچ ایک جسم کے حصے ہیں جسے الگ نہیں کرسکتا، جوڈیشل سسٹم کا ..
لاڑکانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان میان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بار اور بینچ ایک جسم کے حصے ہیں جسے الگ نہیں کرسکتا، جوڈیشل سسٹم کا کام صرف عوام کو انصاف فراہم کرنا ہے، تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتا، ملک میں بڑے مسائل ہیں ان پر چپ نہیں رہ سکتا، ازخود نوٹس لینا کا مقصد انسانی حقوق سے آگاہی ہے، اسپتالوں کا دورہ قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے کرتا ہوں۔

لاڑکانہ ہائی کورٹ بار کی جانب سے شہر کے مقامی ہال میں دیئے گئے ظہرانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ہر ازخود نوٹس کے پیچھے کوئی وجہ ہوتی ہے، میں یقین دلاتا ہوں کہ ہر ازخود نوٹس کے پیچھے کوئی بدنیتی نہیں، اور انسانی بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے آنے والے وقت میں ہم پانی بحران سے نمٹ نہ سکیں جس کے لیے اگر مجھے جھولی پھیلانے اور ہاتھ ٹانگنا پڑا تو میں وہ بھی کام کروں گا، آنے والے نسلوں کے لیے کام کرنے کے لیے ادراک کی ضرورت ہے اور مستقبل میں سندھ کے لوگوں کو صحت کے خدشات ہیں، ماحول کا تحفظ اور صاف پانی کی فراہمی ناگزیر ہے۔

صاف پانی سے متعلق میرے اقدامات جینے کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ کالج کی فیس 35، 35 لاکھ روپے ہے 29 کروڑ بچوں کی اضافی فیس واپس کروائی جہاں کے اسپتالوں میں لیباریٹریاں، اوزار اور دیگر سہولیات نہیں جس کے باعث بچے مررہے ہیں اس کے خلاف ہمیں جنگ کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ آتے ہیں لوگوں کو مقروض کرکے جاتے ہیں اس ملک ملک کا ہر بچہ ایک لاکھ 17 ہزار روپیوں کا مقروض ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں کئی مقدمات زیر التوا ہے، کانٹریکٹ کا قانون پرانا ہے جبکہ قانونی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ دریں اثنا چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ آمد کے موقع پر ڈسٹرکٹ بار میں جاکر وکلا سے ملاقات کی جہاں پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی لازمی ہے، ہم اسپتالوں، پانی،، تعلیم اور دیگر اہم مسائل پر توجہ دے رہے ہیں ہم نے ناانصافی کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے جس کے لیے مجھے بار کے تعاون کی ضرورت ہے، تعاون کے بغیر ہم نظام کو ٹھیک نہیں کرسکتے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کو انصاف ملے تو بار کو بینچ سے تعاون کرنا پڑے گا۔

مجھے کسی بھی احتجاج کی کوئی پرواہ یا غرض نہیں، آج بار میں آپ کا محبت دیکھ کر آیا ہوں جس کے لیے آپ کو کردار ادا کرنا ہوگا۔