80 فیصد سرکاری اشتہارات ڈمی اخبارات کو جاری کئے جاتے رہے ہیں، نگراں وزیر اطلاعات سندھ جمیل یوسف

سندھ اسمبلی کی شاندار تاریخی عمارت کے متبادل سیمنٹ اور سرئیے کا پہاڑ کھڑا کر دیا گیا ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی سندھ کی نگران حکومت پوری غیرجانبداری سے انتخابات شفاف طور پر کرانے کے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے، حیدرآباد پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو

ہفتہ جون 22:12

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) نگراں وزیر اطلاعات سندھ جمیل یوسف نے کہا ہے کہ 80 فیصد سرکاری اشتہارات ڈمی اخبارات کو جاری کئے جاتے رہے ہیں، اشتہارات کے اجراء ان کی رقوم اخبارات اور ٹی وی چینلز کو ادا کرنے اور میڈیا کے اداروں سے صحافیوں اور دیگر ملازمین کو تنخواہیں دلانے کا شفاف نظام قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، سندھ اسمبلی کی شاندار تاریخی عمارت کے متبادل سیمنٹ اور سرئیے کا پہاڑ کھڑا کر دیا گیا ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی، سندھ کی نگران حکومت پوری غیرجانبداری سے انتخابات شفاف طور پر کرانے کے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔

وہ حیدرآباد پریس کلب میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

نگراں وزیراعلیٰ جمیل یوسف نے کہا کہ سیاستدانوں نے بڑی تنخواہوں پر نااہل لوگوں کو بڑی تعداد میں بھرتی کرکے اہم عہدوں پر لگا رکھا ہے جس سے محکمے اور ادارے تباہ ہو کر رہ گئے ہیں اسی لئے انتظامیہ کا کام بھی عدلیہ کو کرنا پڑ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اس وقت جبکہ انتخابی امیدوار ووٹ دینے کے لئے آ رہے ہیں تو عوام کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان سے سوال کریں کہ بھاری سرکاری فنڈز پانچ سال میں انہوں نے کہاں خرچ کئے، کیوں شہر اور دیہی علاقے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 80 فیصد سرکاری اشتہارات ڈمی اخبارات کو جاری کرکے ان کے اسپانسرز کو ایڈوانس رقوم بھی ادا کرنے کا ریکارڈ موجود ہے، اب کوشش کی جارہی ہے کہ اشتہاری ایجنسیوں کو سرکاری اشتہارات کے اجراء ان کو رقوم کی ادائیگی اشتہاری ایجنسیوں سے میڈیا مالکان کو رقم ادا کرنے کا شفاف نظام قائم ہو اور یہ سب ایک ویب سائٹ پر کوئی بھی دیکھ سکے جبکہ اور اس کے ساتھ صحافیوں اور ملازمین کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی بھی یقینی بنائی جا سکے، انہوں نے کہا کہ شکایت ملنے پر تو ہم نے چند دنوں میں اشتہاری ایجنسیوں سے اخبارات کو رقوم دلائیں اور صحافیوں اور ملازمین کو تنخواہیں بھی مل گئیں لیکن سابق حکمران ٹی وی چینلز اور اخبارات جن کو طویل کوریج دیتے تھے ان پر گرفت نہیں کی گئی، انہوں نے کہا کہ میڈیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ منتخب نمائندوں کا احتساب کرے اور ان کو جاری ہونے والے بجٹ کے بارے میں معلوم کریں کہ وہ کہاں خرچ ہوا ہے،،وزیر اطلاعات جمیل یوسف نے کہا کہ سی پی این ای اور اے پی این ایس کے لوگ بھی ایک دوسرے کو کم ہی برداشت کرتے ہیں اس سے بھی مشکلات ہیں، اگر اے پی این ایس کو اشتہاری کمپنیوں سے اشتہارات کی رقوم دو ماہ میں مل جانی چاہئیں تو اڑھائی ماہ میں میڈیا کے اداروں سے صحافیوں اور ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی یقینی ہو جانی چاہیے، انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات کی حالت اس قدر خراب تھی کہ مجھے اپنے ذاتی دفتر کے وسائل اور عملے کو استعمال کرکے بیٹھنے کے قابل بنانا پڑا، کوئی چیز بھی طلب کی جائے تو جواب ملتا ہے کہ اسپیکر آغا سراج درانی سے رابطہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی تاریخی شاندار عمارت کے مقابلے میں نئی عمارت سیمنٹ اور سرئیے کے پہاڑ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی مگر اس پر بھاری فنڈز خرچ کر دیئے گئے، اسی طرح محکمہ نوادرات کی ایک عمارت میں جنوری میں وزیر نے افتتاحی تختی لگائی لیکن اس کے اندر اب تک کچھ نہیں ہوا، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پولنگ کے روز فوج اور رینجرز کے جوان پولنگ بوتھ کے اندر اور باہر بھی تعینات ہوں گے جبکہ پرائیویٹ گارڈز کہیں بھی لے کر چلنے کی اجازت نہیں ہو گی رجسٹرڈ سیکورٹی ایجنسیوں سے گارڈ حاصل کرنے کی صورت میں بھی پہلے ان کے نام فراہم کرکے اجازت لینا ہو گی، نگراں وزیراعلیٰ اور کابینہ کے ارکان کے سیاسی طور پر جانبدار ہونے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ پہلے یہ تاثر ضرور موجود تھا لیکن اب وزیراعلیٰ اور کابینہ کے ارکان نے اپنی کارکردگی سے اس تاثر کو ختم کر دیا ہے اور پوری غیرجانبداری سے فرائض ادا کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ ابتدائی طور پر کابینہ کے لئے جن 17 ارکان کے نام سامنے آئے تھے اور وہ شیروانیاں سلوا کر تیاریاں بھی کر رہے تھے اگر وہی وزیر بن جاتے تو یقینا بچاکچھا بھی سب کچھ لٹ جاتا، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس صرف کام کرنے کے 35 روز ہیں اس لئے تمام افسران کو نیچے سے اوپر تک تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے اس لئے صرف اہم تبدیلیاں ہی کی گئی ہیں، اصولی طور پر یہ بات درست ہے کہ افسران کے بین الصوبائی تبادلے ہونے چاہیے تھے تاکہ انتخابات کی شفافیت کو مکمل یقینی بنایا جا سکے، انہوں نے کہا کہ میں اس بات کا حامی ہوں کہ آئندہ نگران حکومت کا عرصہ 6 ماہ کا ہونا چاہیے تاکہ کسی حد تک سابقہ حکومت کا احتساب بھی ہو سکے اور نگراں حکومت اور عوام کو بھی تیاری کا موقع مل سکے، جمیل یوسف نے کہا کہ جیلوں کی حالت بہت خراب ہے بچہ جیلوں کو بھی برباد کیا گیا ہے ہماری کوشش ہے کہ 60 فیصد بچوں کی جیلوں سے رہائی عمل میں آ سکے اور ان کی بحالی کا کام شروع ہو سکے، انہوں نے یقین دلایا کہ حیدرآباد صحافی کالونی کے پلاٹوں پر 7 کروڑ روپے سے زائد کا جو وفاقی ٹیکس ہے اس کو حل کرانے کی کوشش کی جائے گی اور وہ جلد سمری تیار کرکے وزیراعلیٰ کو بھیجیں گے انہیں اس سلسلے میں تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔