بی این پی نے نفر توں ، تعصب اور قوموں کو باہم دست و گربیان کرنے کی سیاست کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی ہے

عوام 25جولائی کو کلہاڑے پر مہر ثبت کر کے کرپٹ ،نااہل امیدواروں کو شکست سے دوچار کریں،آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ

ہفتہ جون 23:07

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) بی این پی کے رہنماوں نے کہا ہے کہ نفرتوں ، تعصب اور قوموں کو باہم دست و گربیان کرنے کی سیاست کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی ہے ہر سطح پر بلوچ مفادات کی ترجمانی کی ہے بلوچستان پشتون ، ہزارہ، پنجابی اور بلوچستانیو ں کے حقوق کے حصول کیلئے اقدامات کئے تاکہ معاشرے میں ترقی پسند خیالات پروان چڑھ سکیں حقیقی ترقی خوشحالی کے مخالفت نہیں کرتے بلوچ نوجوانوں کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ قلم کو ہتھیار بنا ئیں 25جولائی کو کلہاڑے پر مہر ثبت کر کے کرپٹ ،نااہل امیدواروں کو شکست سے دوچار کریں ان خیالات کا اظہارمصطفی آباد نزد گرڈ اسٹیشن سریاب میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ‘ مرکزی کمیٹی کے ممبر جمیلہ بلوچ ‘ٹکری شکر اللہ ابابکی اوررضا جان شاہی زئی نے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع گرڈ اسٹیشن سریاب میں پارٹی میں شمولیت کی دعوت بھی دی گئی اور نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے بھی ذریعہ ٹیلی فون شمولیت کی دعوت دی جس پردوستوں نے یقینی دہائی کرائی کہ وہ 15جولائی کو باقاعدہ طور پر جلسے میں شمولیت کا اعلان کریں گے اس موقع پر دوست محمد شہی ‘ خدائے رحیم سمالانی ‘ غلام رسول ابابکی ‘ حاجی عید محمد ابابکی ‘ خان محمد ابابکی ‘ محمد عامر لانگو ‘ علی احمد مینگل ‘ نصیب اللہ لہڑی و دیگر بھی موجود تھے اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی کی قیادت کا کردار ‘ جدوجہد ‘ مخلصی ایمانداری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں قائدین نے ہر دور میں بلوچستان و بلوچ عوام کے حقوق کیلئے ہمہ وقت جدوجہد کر کے یہ ثابت کروایا کہ ہم معاشرے میں حقیقی ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن ہیںہم مخالف نہیں ہمارا آئینی حق ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر بلوچ و بلوچستانی عوام کے حقوق کو تسلیم کروائیں 25جولائی کو بی این پی کے امیدواروں کو ووٹ دے کر کامیاب بنا کر قومی دوستی ، وطن دوستی کا ثبوت دیا جائے ہماری کامیابی حقیقی ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہے عوام ان مفاد پرستوں کو رد کریں جنہوں نے سیاست کو تجارت سمجھا اور ذاتی مفادات کو ترجیح دی عوام کی پسماندگی ، بدحالی ،غربت ، افلاس ، جہالت کو نظر انداز کر کے استحصال کرنے سے گریز نہیں کیا آج اکیسویں صدی میں بلوچستان جس زبوں حالی ، پسماندگی کا شکار ہے اس کی تمام تر ذمہ داریاں انہی لوگوں پر عائد ہوتی ہیں جنہوں نے مختلف جماعتوں میں رہ کر مختلف ناموں سے انتخابات میں حصہ لیا اور پارٹیاں تبدیل کیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آمر و سول ڈکٹیٹروں کے دور میں حکمرانی کی اور بااختیار رہے لیکن انہوں نے بلوچستان میں عوام کو انسانی ضروریات زندگی کی بہتری پر توجہ نہ دی- انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اختیار میں آ کر عوام کے حقیقی مسائل سے نجات کیلئے اقدام کرے گی اور عوام کو روزگار کی فراہمی ، امن و امان کی بحالی کو یقینی بنائے گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہمیشہ فرقہ واریت اور نسانوں کو باہم دست و گریبان کرنے کی حوصلہ شکنی کی ہے -