ایمنسٹی اسکیم کے تحت غیرملکی اثاثوں کو ظاہر کرنے میں ہی بہتری ہے‘ چیئرمین ایف بی آرطارق پاشا

ایمنسٹی اسکیم کے تحت ادائیگی کے نظام کو آسان اورمدت میں توسیع کی جائے،سراج تیلی

ہفتہ جون 23:25

ایمنسٹی اسکیم کے تحت غیرملکی اثاثوں کو ظاہر کرنے میں ہی بہتری ہے‘ چیئرمین ..
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) طارق محمود پاشا نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت اگر کوئی بیرون ملک اپنے اثاثوں کو ظاہر نہیں کرے گا تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے،،دنیا بھر میں نئے قوانین وضع کئے گئے ہیں اور غیرملکی اثاثوں کی سختی سے نگرانی اور تحقیقات کی جارہی ہے لہٰذا ایف بی آر کی جانب سے غیر ملکی اثاثوں کی نشاندہی سے قبل ہی یہ اثاثے ان ممالک میں ہی ضبط ہو جائیں گے، بیرون ملک اثاثوں کو واپس پاکستان منتقل کرنے کا یہ آخری موقع ہے بصورت دیگر بیرون ملک اثاثوں کو وہیں ضبط کرلیا جائے گا اگر ان کے مالکان ایسے اثاثوں کی وضاحت نہ کر پائے۔

ہفتہ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب میں کہی ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر چیئرمین بزنس مین گروپ اور سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی، وائس چئیرمینز بی ایم جی اور سابق صدور طاہر خالق،ہاررون فاروقی، صدر کے سی سی آئی مفسر عطا ملک، سینئر نائب صدر عبدالباسط عبدالرازق، سابق صدر اے کیو خلیل، چیئرمین ایف بی آر کے خصوصی معاون ملک امجد زبیر ٹوانہ، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ خان اور کی سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم کے قوانین میں رازداری ضروری ہے۔یہ اسکیم کرپشن اور جرائم کے ذریعے حاصل کیے گئے فنڈز کے لیے نہیں بلکہ صرف ایسے تاجروں کے لیے ہے جنہوں نے بیرون ملک اپنے کاروبار سے کمائی گئی رقم کو ٹیکس دیئے بنا ہی منتقل کردیا ۔انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں نظام میں کمزوریاں اور خرابیوںکی وجہ سے بیرون ملک آسانی سے رقوم منتقل ہوئیں ۔

انہوں نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ صرف 2 سے 5 فیصد کا معمولی ٹیکس ادا کرکے اپنے ملک میں فنڈز واپس لے آئیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے رقوم کی منتقلی کے طریقہ کار کو آسان بنانے کی تجویز کے جواب میں کہا کہ انٹرنیشنل اینٹی منی لانڈرنگ قوانین اور فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) ریجم ہمیں اس اسکیم کے تحت مزید ریلیف کی اجازت نہیں دیتے یہی بنیادی وجہ ہے کہ رقوم ظاہر کرنے کے لیے ذاتی اکاؤنٹ یا پھر بہن،بھائی، بیوی،،بیٹا، بیٹی یا والدین کے اکاؤنٹس سے ہی رقوم کی منتقلی لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم کی راہ میں کچھ رکاوٹیں تھیں جنہیں دور کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے اب یہ اسکیم باقاعدگی سے پرواز کر چکی ہے ۔ حکومت نے دو اسکیموں کا اعلان کیا اور یہ امر باعث فخر ہے کہ عیدالفطر کے بعد سے دونوں ہی اسکیموں میں بھرپور ٹیک آف دیکھا گیا جس سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ ان اسکیموں کو بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان 102ممالک پر مشتمل ملٹی لیٹرل کنونشن معاہدے کا ممبر بن گیا ہے جس سے ایف بی آر کو بیرون ملک اکاؤنٹس رکھنے والے پاکستانیوں کی تفصیلات تک رسائی یکم ستمبر 2018 ء سے حاصل ہوجائے گی ۔

ایف بی آر اور دیگر سرکاری ادارے دبئی میں جائیداد رکھنے والے پاکستانیوں کی فہرست پر بھی کام کر رہے ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد سے باز پرس کی جا رہی ہے، اس سے پہلے ایف بی آر کو دبئی میں ان جائیدادوں کی تفصیلات تک رسائی نہیں تھی لیکن اب دبئی کے حکام نے ہمارے ساتھ ان معلومات کا تبادلہ کرنا شروع کردیا ہے۔آزمائشی طور پر ایسی جائیدادوں کے تقریبا 100 کیسز دبئی بھیجے گئے جن میں سے ایف بی آرکو 55 کیسز کے بارے میں معلومات فراہم کر دی گئی ہیں جس میں جائیداد کے مالکان کے نام ، پتے اور جائیدادوں کا حجم اور ان کی قدروقیمت کے بارے میں تفصیلات شامل ہیں اور ان تمام تر تفصیلات کی تصدیق دبئی کی ٹیکسیشن اتھارٹی نے کی ہے لہٰذا ایف بی آر کو مزید ثبوتوں کی ضرورت نہیں کیونکہ غیر ملکی حکومت کے محکمے کی طرف سے بھیجے جانے والی تفصیلات عدالت میں قابل قبول ثبوت ہے۔

طارق پاشا نے مزید کہا کہ ودہولڈنگ ٹیکس ریجم میں بھی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ اس سے قبل بینک ایف بی آر کو معلومات فراہم نہیں کرتے تھے لیکن اب ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی کے بارے میں ایک حد پر اتفاق کر لیا گیا ہے لہذا اگر کوئی اکاؤنٹ ہولڈر ود ہولڈنگ ٹیکس کی حد سے تجاوز کرتا ہے تو اس کی معلومات ایف بی آر کے ساتھ شیئر کی جاتی ہے ۔

مزید برآں اگر کسی بھی پاکستانی بینک اکائونٹ میں سالانہ ایک لاکھ ڈالر سے زائد رقم بھیجی گئی تو وصول کنندہ سے ترسیلات زر کے وسائل کے بارے میں دریافت کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایف بی آر نے مقامی نئی رئیل اسٹیٹ منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کی تفصیلات حاصل کرلی ہیںاور یہ پتہ چلا ہے کہ بہت سے افراد بڑے پیمانے پر ان منصوبوں میں جائیداد یں بک کروا رکھی ہیں۔

اس طرح کے کیسز کی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ ایسے کیس بھی سامنے آئے جس میں ایک شخص نے ایک ہی منصوبے 20 اپارٹمنٹ بک کروا رکھے ہیں جبکہ ایک اپارٹمنٹ کی مالیت چار کروڑ روپے ہے۔ ایف بی آر کے پورٹل میں موجود ایمنسٹی اسکیم کے تحت ٹیکس جمع کرانے والوں کی معلومات کی رازداری کے حوالے سے سوال کے جواب میں ایف بی آر چیئرمین نے کہاکہ اس معلومات تک صرف ممبر ان لینڈ ریونیو ڈاکٹر محمد اقبال کو رسائی حاصل ہے جسے اگلے مراحل میں نچلی سطح پر کمشنروں کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔

بی ایم جی کے چیئرمین اور سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ایمنسٹی اسکیم کو سیاسی مسائل کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے جو مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے اقتدار کی مدت ختم کرنے کے آخری ایام میں متعارف کروایا اور بعد میں سپریم کورٹ نے اس اسکیم کا ازخود نوٹس بھی لے لیا جس سے اس ایمنسٹی اسکیم کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی اور اس کے مستقبل کے حوالے سے شکوک و شبہات نے جنم لیا۔

اس اسکیم میں کچھ تبدیلیوں کی توقع بھی کی جارہی تھی اور یہ بھی ڈر تھا کہ معزز سپریم کورٹ اس اسکیم سے مکمل طور پرمسترد کر دے تاہم معزز عدالت نے اس اسکیم کو ٹھیک قرار دیا۔ ان تمام مسائل کی وجہ سے بہت وقت ضائع ہوا اور اب جب بمشکل 5 دن باقی ہیں تو لوگوں کی جانب سے اس اسکیم کی مدت میں توسیع کا مطالبہ جائز نظر آرہا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ایمنسٹی اسکیم کی مدت میں توسیع کے مطالبے پر غور کرنا چاہیے کیونکہ یہی وقت ہے جب لوگ اس اسکیم کو مکمل طور پر سمجھ چکے ہیں اور اس نے کچھ رفتار پکڑی ہے۔

سراج قاسم تیلی نے خیال ظاہر کیا کہ پاکستان کو ان فنڈز کی ضرورت ہے جو ایمنسٹی اسکیم کے ذریعہ حاصل ہوسکتے ہیں کیونکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور آئی ایم ایف سے تعاون حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اگر ایمنسٹی اسکیم مطلوبہ فنڈز حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس میں کوئی برائی نہیںکہ اس کا دورانیہ کم از کم 15روز سے ایک ماہ تک بڑھا دیا جائے جو ملک کے وسیع تر مفاد میں ہوگا۔

انہوں نے چیئرمین ایف بی آر کو مشورہ دیا کہ کوئی ایسا نظام یا موثر حکمت عملی متعارف کرائی جائے جس سے لوگوں کو غلط کام کرنے کا موقع ہی نہ ملے ۔ موجودہ ٹیکس نظام خامیوں سے بھرا ہوا ہے جس کی وجہ سے کئی افراد ٹیکس نیٹ سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر ان خامیوں کودور کر لیا جائے تو میرے خیال میں کسی بھی شخص کو ٹیکس جمع کرانے میں کوئی ہچکچاہٹ ہوگی اور نہ ہی وہ بیرون ملک فنڈز چھپانے کی ضرورت پیش آئے گی۔

انہوں نے ایف بی آر کو غیر ضروری تحقیقات اور پوچھ گچھ سے گریز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ واقعی ہوجائے تو بہت سے فنڈز خود بخود پاکستان میں واپس آجائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ تاجربرادری کی طرف سے بیرون ملک منتقل کردہ فنڈز وہ ہیں جو ان کے اپنے کاروبار سے نکالے گئے اوران کی بس یہی غلطی ہے کہ یہ رقوم انکم ٹیکس ادا کئے بغیر منتقل کی گئیں دیگر افراد جنہوں نے اربوں ڈالر بیرون ملک منتقل کئے وہ یا تو عوام سے لوٹا گیا یا پھر کرپشن سے کمایا گیا پیسا ہے۔