شام کے پناہ گزین باپ نے اپنی معذور بیٹی کیلیے مصنوعی ٹانگیں تیار کرلیں

پناہ گزین باپ نے اپنی معذور بیٹی کیلئے ٹِن کے ڈبوں اور کپڑے کی مدد سے مصنوعی ٹانگیں تیار کر لیں،تصاویردیکھ کر ہر آنکھ غمگین ہو گئی

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس اتوار جون 00:00

شام کے پناہ گزین باپ نے اپنی معذور بیٹی کیلیے مصنوعی ٹانگیں تیار کرلیں
دمشق(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-23 جون 2018ء):شام کے پناہ گزین باپ نے اپنی معذور بیٹی کیلیے مصنوعی ٹانگیں تیار کرلیں پناہ گزین باپ نے اپنی معذور بیٹی کیلئے ٹِن کے ڈبوں اور کپڑے کی مدد سے مصنوعی ٹانگیں تیار کر لیں،تصاویردیکھ کر ہر آنکھ غمگین ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق شام اس وقت تباہ حالی کا شکار ہے۔2011 سے جاری خانہ جنگی نے شام جیسے خوشحال ملک کو تباہ و برباد کردیا۔

اس جنگ میں سب سے زیادہ متاثر عام شہری ہوئے ہیں۔مسلسل بمباری سے آئے لوگ اپنے اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت کرکے پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔جہاں شامی پناہ گزینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے لیکن زندگی کی امید ابھی بھی ہمت نہیں ہاری۔ شامی شہر ادلیب کے ایک کیمپ میں زندگی گزارنے والے باپ نے اپنی بیٹی کے لیے شاندار پدری محبت کا ثبوت دیتے وہئے اسکے لیے ٹن کے ڈبوں اور کپڑوں سے مصنوعی ٹانگیں تیار کر لی ہیں۔

(جاری ہے)

یہ باپ اور بیٹی پیدائشی طور پر ٹانگوں سے محروم ہیں۔ کیمپ میں انہیں روز مرہ کے کام کاج کرنے میں شدید مشکل پیش آتی تھی۔ جس پر محمد نامی شامی شخص نے اپنی 8 سالہ بیٹی مایا کو احساس محرومی سے نکالنے کیلئے ٹِن ڈبوں اور کپڑے سے بنی مصنوعی ٹانگیں بنا دیں جن کی مدد سے بچی کیمپ میں چہل قدمی کرنے کے قابل ہو گئی۔ بچی کے والد کا کہنا ہے کہ یہ حل مصنوعی ٹانگوں کا متبادل تو نہیں لیکن اس سے میری بچی تھوڑا بہت چلنے کے قابل ہو گئی ہے۔