ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ کا دورہ ناروے مکمل

اتوار جون 12:10

اوسلو ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی، جو ناروے کے حکام کی دعوت پر اوسلو فورم کے اجلاس میں شرکت کے لئے اس ملک کے دورے پر تھے واپس تہران پہنچ گئے۔ جہاں انہوں نے یورپی ملکوں پر یہ واضح کیا کہ ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے کے بعد کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے یورپ نے جو کے اقدامات کئے ہیں وہ ناکافی ہیں۔

ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے اوسلو فورم کے اجلاس میں ایران میں یورینیم کی افزودگی بند کرانے کے لئے امریکی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر ایٹمی مذاکرات کا آغاز ہی اس لئے ہوا تھا کہ امریکا اپنے اس غیر قانونی مطالبے سے دستبردار ہوجائے اور ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں اپنی پالیسیاں ترک کردے - انھوں نے اوسلو میں این یو پی آئی کے اجلاس میں شرکت کے دوران کہاکہ اس معاہدے سے اگر ایران کے مدنظر مقاصد پورے نہ ہوئے تو اس کو باقی رکھنا ناممکن ہو جائے گا اس لئے کہ ایٹمی معاہدہ اور پابندیاں، دونوں ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔

(جاری ہے)

علی اکبر صالحی نے اپنے اس دورے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹرش، یورپی یونین کے خارجہ امور کی نائب سربراہ ہلگا اشمید، عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی، ناروے کی وزیر اعظم ایرنا سولبرگ اور وزیر خارجہ اینے اریکسن سے الگ الگ ملاقات کی۔