فرنیچر کی صنعت کو 2025ء تک ٹیکس فری کیا جائے

برآمدی فرنیچر اور ویلیو ایڈڈ اشیاء کے لیے سکل ڈویلپمنٹ پروگرام متعارف کرایا جائے چیف ایگزیکٹو پی ایف سی میاں محمدکاشف اشفاق

اتوار جون 12:10

لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) پاکستان فرنیچر کونسل (پی ایف سی)) نے کہا ہے کہ فرنیچر کی صنعت کو 2025ء تک ٹیکس فری کیا جائے اس سے فرنیچر کی برآمدات کے فروغ ، صنعت کو لاحق خدشاتکمکرنے،روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مقامی بزنس کو فروغ دینے میں مدد ملے گی،حکومت کو چاہیے کہ برآمدی فرنیچر اور ویلیو ایڈڈ اشیاء کے لیے سکل ڈویلپمنٹ پروگرام متعارف کرائے۔

یہ بات پی ایف سی کے چیف ایگزیکٹو میاں محمد کاشف اشفاق نے کونسل کے دفتر میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے فرنیچر کے برآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ غیر روایتی مصنوعات کی برآمد اور نئی مارکیٹوں کی تلاش پر خصوصی توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ برآمدی فرنیچر اور ویلیو ایڈڈ اشیاء کے لیے سکل ڈویلپمنٹ پروگرام متعارف کرایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ٹیکس استثنیٰ سے نہ صرف فرنیچر کے شعبے بلکہ معیشت میں نئی جان پڑ جائے گی، نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی، پیداوار میں اضافہ ہو گا اور اقتصادی صورتحال بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں پہلے سے ہی بہتری کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں اور اگر فرنیچر کی درآمد پر پابندی عائد کردی جائے تو نہ صرف مقامی صنعت کو فروغ اور معاشی سرگرمیوں کی رفتار تیز ہوگی بلکہ غیر ملکی زرمبادلہ بھی بچایا جا سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ فرنیچر کی اندھا دھند درآمد سے مقامی صنعت مشکلات کا شکار ہے خاص طور پر چینی فرنیچر نے مقامی صنعت کو بدحالی کا شکار کردیا ہے اور مقامی گھریلو فرنیچر کی فروخت میں کمی آئی ہے جبکہ تھائی لینڈ،، کوریا اور دیگر ممالک سے بھی بڑے پیمانے پر درآمد شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فرنیچر کی درآمد کی حوصلہ شکنی کرکے مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی کرے اور مقامی مینوفیکچررز کے لیے پرکشش مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا جائے تاکہ وہ برآمدی سامان کی پیداوار میں اضافہ اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کیا جا سکے کیونکہ لکڑی کی دستکاری کی روایتی مصنوعات کی عالمی مارکیٹوں میں بہت بڑی گنجائش ہے۔

میاں محمد کاشف اشفاق نے کہا کہ فرنیچر میں استعمال ہونے والے تمام خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں چپ بورڈ، لکڑی، فوم، پالش کیمیکلز، رنگ، پینٹ اور ہارڈ ویئر شامل ہیں، دوسری جانب لکڑی کی پیداوار بہت کم ہے اس لئے خام مال کی مناسب نرخوں پر دستیابی اور کاریگروں کی مہارت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیریئر ڈیزائننگ انڈسٹری کے فروغ نے بھی سکلڈ لیبر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اس حوالے سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ کوالٹی اشورنس کو بہتر اور پاکستانی فرنیچر برانڈز کو مستحکم بنایا جاسکے۔

قبل ازیں سکریٹری پی ایف سی عاقل سردار نے اخراجات پر تفصیلی رپورٹ منظوری کے لیے پیش کی۔ اجلاس میں اسلام آباد میں 3 روزہ بین الاقوامی انٹیریئرز ایکسپو کے لیے ممکنہ تاریخوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔