الیکشن جیتنے کی صورت میں چوہدری نثار کس پارٹی میں شامل ہوں گے؟ ناقابل یقین خبر سامنے آ گئی

صدر ن لیگ شہباز شریف نے نواز شریف کو پیغام بھجوایا ہے کہ چوہدری نثار کے مقابلے میں امیدوار کھڑا نہ کریں،وہ جیتنے کی صورت میں ہماری پارٹی میں شامل ہو جائیں گے،معروف صحافی حامد میر کا دعوی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار جون 12:59

الیکشن جیتنے کی صورت میں چوہدری نثار کس پارٹی میں شامل ہوں گے؟ ناقابل ..
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔24جون 2018ء) :معروف صحافی و تجیہ نگار حامد میر کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کی سینئیر لیڈر شپ نے نواز شریف کو ایک پیغام بھجوایا ہے کہ چوہدری نثار علی خان کے خلاف کوئی امیدوار کھڑا نہ کریں۔کیونکہ وہاں مسلم لیگ ن کا امیدوار ہار جائے گا۔اور اگر ن لیگ کا امیدوار چوہدری نثار کے مقابلے میں ہار گیا تو یہ ہماری پارٹی کے لیے باعث شرمندگی ہو گا۔

لہذا آپ ان کے خلاف امیدوار نہ کھڑا کریں۔اور ہماری چوہدری نثار سے بات چیت چل رہی ہے اگر چوہدری نثار جیت گئے تو وہ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔۔حامد میر کا کہنا تھا کہ یہی وجہ سے چوہدری نثار دو روز قبل کی گئی پریس کانفرس میں تھوڑے کنفیوز نظر آئے۔اور لگ رہا تھا کہ چوہدری نثار یو ٹرن لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

لیکن ان کی زبان ساتھ نہیں دے رہی۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کئی ایسی باتیں کر چکے جن سے اب وہ مکر رہے ہیں۔لیکن وہ تمام باتیں ریکاڑد پر موجود ہیں۔یاد رہےچوہدری نثار نے دو روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پریس کانفرنس کابنیادی مقصد یہ ہے کہ میرے متعلق خبریں جب سے آرہی ہیں مختلف ٹی وی چینلزانٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ایک آدمی کس کس کوانٹریو دے سکتا ہے؟ انہوں نے کہاکہ آج سے 10روزقبل جعلی خبر جاری ہوئی۔

اس میں کہیں حوالہ نہیں دیا گیا کہ میں وہ باتیں کہاں کیں، کس کے ساتھ کیں۔خبرکس نے دی اور کہاں دی۔ لیکن طوفان مچ گیا۔میں نے کہاکہ پی ٹی آئی میں 10تومسلم لیگ ن میں 100غلطیاں ہیں۔زبان کھولوں گا،میاں صاحب منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔میں نے فوری اس کی تردید بھی کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے یہ ضرور کہا تھا کہ میں اپنی چکری میں پہلی تقریر میں میاں نوازشریف کے ساتھ ہونے والے تحفظات سے متعلق بات کروں گا۔

لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ کلثوم نواز کی طبیعت کے باعث اب بات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں نے کب کہا کہ یہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔میری تقریر کوبنیادبناکرطرح طرح کی باتیں کی گئیں۔انہوں نے کہاکہ میرے ساتھ بہت سی باتیں منسوب کی جارہی ہیں۔ میرا مسلم لیگ ن کے ساتھ سیاسی اختلاف ضرور ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت نارمل حالات نہیں ،4حلقوں سے الیکشن لڑرہا ہوں۔

۔۔الیکشن مہم میں ہوں۔میں صرف اللہ اور حلقے کی عوام کی طرف دیکھ رہاہوں۔ میرا حلقے کی عوام سے رشتہ بہت پرانا ہے۔میراتعلق 1985ء سے ہے۔25جولائی کوعوام کافیصلہ سب کے سامنے آجائے گا۔۔۔نوازشریف کے ساتھ میراتعلق 33سال رہا ہے۔میں نے ہمیشہ مخلص مشورہ دیا ہے۔میرے نزدیک وفاداری یہ نہیں کہ لیڈرجوکہے جی جی کہتے رہو۔اصل وفاداری یہ ہے کہ حقائق سامنے رکھو۔

انہوں نے کہاکہ میں نوازشریف کی بات کررہاہوں۔میں ان کی بیٹی کی بات نہیں کررہاہوں۔ کیونکہ فیصلہ نوازشریف لیڈرنے کرنا ہے۔اختلافات کی بات کسی اور کی نہیں صرف نوازشریف کی بات کررہاہوں۔جب نوازشریف کیساتھ اختلافات بڑھ گئے تومیں نے خود کووزارت سے الگ کردیا۔۔۔ن لیگ یا نوازشریف کونقصان پہنچانے کاسوچ بھی نہیں سکتا۔بوجھل دل کے ساتھ نوازشریف کوصدارت کا ووٹ دیا۔

۔۔چوہدری نثار نے کہاکہ شاہد خاقان اور شہبازشریف میرے پاس آئے لیکن میں نے ان سے کابینہ کا حصہ بننے سے معذرت کرلی۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید سے کہہ چکا ہوں کہ میں کسی آوارہ بس کا مسافر نہیں ہوں۔بس مس کرنے کا تعلق ہے تومیں کسی بس کامتلاشی نہیں ہوں۔میں اپنے طرز کی سیاست کرتاہوں۔سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق میراکسی پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔