نیب بیور و کی نوازشریف کے قریبی 25 بیوروکریٹس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجویز

اقدام ان بیورو کرویٹس کی جانب سے کرپشن کے مختلف مقدمات میں اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کے تناظر میں اٹھایا گیا ،ْترجمان نیب

اتوار جون 13:50

نیب بیور و کی نوازشریف کے قریبی 25 بیوروکریٹس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے چیئرمین جسٹس (ر) جاید اقبال کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی 23 بیوروکریٹس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی تجویز پیش کردی۔نیب کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام ان بیورو کرویٹس کی جانب سے کرپشن کے مختلف مقدمات میں اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان بیورووکریٹس کے ناموں کی حتمی فہرست تیار کرلی گئی ہے جبکہ انہیں ملنے والی ’مراعات‘ کی تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق جن بیورو کریٹس کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ان میں پرائمری اور سیکنڈری سیکریٹری صحت علی جان خان، قائدِ اعظم سولر پاور پلانٹ کے سی ای او نجم شاہ، پیراگون سٹی کے فنانس ڈائریکٹر فرحان علی اور مینیجر شہزاد وحید، لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی ای) سٹی کے شراکت دار ملک آصف، میاں طاہر جاوید، عبدالرشید احید، شاہد صادق اور ابراہیم بھٹی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

دیگر افراد میں پاور ڈیولپمنٹ کمپنی کے سی ای او سید فرخ شاہ، گجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سی ای او وسیم اجمل، خالد مجید، رانا محمد عارف، جمیل احمد، ڈی سی او اوکاڑہ اور سابق چیئرمین فیصل آباد انڈسٹریل کمپنی محمد اسلم قاسم شامل ہیں ،ْاس کے علاوہ محمد لطیف، اسلم خان اور علی باجوہ نامی بیوروکریٹس کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

نیب ترجمان کے مطابق ننکانہ صاحب میں پانی کی فراہم منصوبے میں 18 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن،، منڈی فیض آباد میں پانی کی فراہمی منصوبے میں ایک کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن اور شاہ کوٹ میں سیوریج منصوبے میں 5 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے چیف انجینیئر شاہد اظہار کے خلاف محکمہ انسدادِ بدعنوانی اور ایک انٹیلی جنس ایجنسی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ کرپشن کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ یہ کرپشن حمزہ شہباز شریف کی جانب سے کی گئیں اور شاہد اظہار ان کے فرنٹ مین کے طور پر کام کر رہے تھے۔نیب میں موجود ذرائع نے بتایا کہ بیورو سابقہ حکومت کے دور میں اعلیٰ عہدوں پر فائز پولیس افسران سمیت کچھ مزید بیوروکریٹس کو کرپشن کیسز میں تحقیقات کے لیے طلب کر سکتا ہے۔ماضی میں احد چیمہ کی گرفتار پر بیوروکریٹس نے احتجاج کیا تھا تاہم ان کے خلاف مستقبل قریب میں مزید کیسز سامنے آسکتے ہیں۔