ولائی 2016 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی نے نئی کروٹ لی ہے‘راجہ عثمان فاروق حیدر ایڈووکیٹ

فرزندوزیراعظم راجہ عثمان فاروق حیدرایڈووکیٹ کا دورہ چنکوٹ حلقہ پانچ,چندکوٹ پہنچنے پرکارکنان مسلم لیگ(ن)کاشانداراستقبال

اتوار جون 14:10

ہٹیاں بالا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) فرزندوزیراعظم راجہ عثمان فاروق حیدرایڈووکیٹ کا دورہ چنکوٹ حلقہ پانچ,چندکوٹ پہنچنے پرکارکنان مسلم لیگ(ن)کاشانداراستقبال،اس موقع پر لیگی راہنماء شوکت ہمدانی،ساجد ہمدانی کی رہائش گاہ پر عیدملن پارٹی کااہتمام کیا گیا جس میں کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع پر گاوں کے چیدہ چیدہ کارکنان نے فرزندوزیراعظم راجہ عثمان فاروق حیدرایڈووکیٹ سے ملاقاتیں بھی کیں اور مساہل کے حل پران سے اظہار تشکر بھی کیا,ایکٹ 74,کشمیر کونسل کے اختیارات کی واپسی،ختم نبوت ایکٹ منظوری،این ٹی ایس،پی ایس سی،ایمرجنسی ہیلتھ سروس سمیت ریاست میں عملی قدامات پروزیراعظم راجہ فاروق حیدرخان کاشکریہ ادا کیا گیااس موقع پر پرتکلف ظہرانہ دیا گیا،اس موقع پر زاہد ہمدانی،ٹھیکدارراشدمحمود،عدنان فاطمی،سردارشاہدحمیدعباسی،اسرار ہمدانی،منیرشاہ،قاری سخاوت،حمزہ علی سمیت دیگربھی موجود تھے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے راجہ عثمان حیدرایڈووکیٹ نے کہا کہ کشمیر ی عوام اپنی آزادی کی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ساری ریاست کا آزاد ہو کر پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں ہو جاتاکشمیری مسلمانوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی اپنا مستقبل نظریاتی طور پر پاکستان کے ساتھ وابستہ کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

ہمیں اس تاریخی فیصلے پر فخر ہے کیونکہ اہل پاکستان نے آزمائش اور مشکل کے ہر لمحے میں کشمیری عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔ زلزلہ ہو یا سیلاب،، بھارتی جارحیت ہو یا کوئی اور آفت سماوی حکومت پاکستان،،افواج پاکستان اور پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ جس محبت اخوت، ہمدردی اور تعاون کا مظاہرہ کرتے ہیں اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ 1947ء کو الحاق پاکستان کا فیصلہ ایک احسن قدم تھا اس وقت بھارت کی سات لاکھ سے زیادہ فوج مقبوضہ کشمیر میں موجود ہے۔

بھارتی افواج نے ظلم وجبر کا ایسا کوئی ہتھکنڈہ نہیں چھوڑا جو بے گناہ اور بے سروسامان کشمیری عوام پر آزمایا نہ گیا ہو لیکن کشمیری عوام جرات، پامردگی اور حوصلے سے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے اپنے نصب العین کونہیں چھوڑا۔ وہ کسی بھی صورت میں اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہونگے۔08 جولائی 2016 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی نے نئی کروٹ لی ہے۔

برہان مظفر وانی شہید کے مشن کو لے کر نوجوان نسل سر بکف ہو گئی ہے۔ اس تحریک میں مقبوضہ کشمیر کے عوام نے 06 ماہ کے طویل کرفیو کا سامنا کیا۔ پندرہ سو کے لگ بھگ نوجوان شہید،، 20 ہزار زخمی اور ایک ہزار تک نوجوان کلی یا جزوی طور پر بصارت سے محروم ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کے عزم و حوصلے کمزور نہیں ہوئے۔ کشمیری عوام کے دل و دماغ سے موت کا خوف ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم بھارت پر واضح کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کے بنیادی حق،حق خودارادیت میں رکاوٹ نہ بنے بلکہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرے۔