مظفرآباد‘،ٹیچر فائونڈیشن کے خلاف ہمیشہ کاروائی کو حکومتی سطح پر روکا جاتا ہے جو کہ سوالیہ نشان ہے

اتوار جون 14:10

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) احتساب بیورو ٹیچر فائونڈیشن میں ہونے والے بے ضابطگیوں اورکمیشن مافیا کے خلاف کاروائی کرکے لوٹا ہوا مال واپس خزانے میں جمع کرے ، آج بھی ٹیچر فائونڈیشن کے ملازمین کی تعداد 30کے قریب ہے جواپنے محکمہ میں کام کرنے کے بجائے مختلف مقامات پر گھومتے نظر آرہے ہیں ، جبکہ گریڈ 17کے آفیسر نے نادرہ کے فارم ٹیسٹ کرنے کیلئے دفتر حاضری دے کررفو چکر ہوجاتا ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں عرصہ دراز سے ٹیچر فائونڈیشن خسارے اور کرپشن کی نظر کروڑوں روپے سالانہ خسارے میں چل رہا ہے جو کہ سوالیہ نشان ہے ،ٹیچر فائونڈیشن کے خلاف ہمیشہ کاروائی کو حکومتی سطح پر روکا جاتا ہے جو کہ سوالیہ نشان ہے ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق ٹیچر فائونڈیشن آزادکشمیر جس میں قائم ہونے کے ایک سال بعدکرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ چلتا آرہا ہے جس کو کنٹرول کیلئے ، گریڈ 17اور گریڈ 14کے ملازمین نے کنٹرول کررکھا ہے ،ڈی جی اور سیکرٹری کو رام کرنے کیلئے ہمیشہ فرنٹ پیج پر موجود رہنے والی کمیشن مافیا نے خسارے سے باہر نکلنے نہیں دیا یہی وجہ ہے کہ ماضی میں ٹیچر فائونڈیشن کے زیر چلنے والے سکول ،کالجز اور ہاسٹل بند ہوگئے جبکہ نہ تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹیچر فائونڈیشن کے خلاف کاروائی کی اور نہ ہی تحقیقات ، دو مرتبہ احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن نے فائل واپس کردی کہ ٹیچر فائونڈیشن کی فائل روکنے کیلئے اعلیٰ سطح کی مداخلت کے بعد ہمیشہ فائل بند کردی جاتی ہے جبکہ ڈی آئی جی احتساب بیورو راشد نعیم ایک اچھے آفیسر ہیں اُن سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ٹیچر فائونڈیشن میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور ملازمین کے کوائف کی تحقیقات کرکے اصل معاملات سامنے لائیں ۔

متعلقہ عنوان :