لاپتہ افراد کیس کے دوران عدالت میں جذباتی مناظر

بیٹی ہیں اس لیے معاف کررہا ہوں ورنہ جیل بھیج دیتا، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ڈائس پر گھونسے مارنے والی خاتون پر برہم

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار جون 14:43

لاپتہ افراد کیس کے دوران عدالت میں جذباتی مناظر
کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24جون 2018ء) لاپتا افراد سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت ہوئی۔۔چیف جسٹس کاقانون نافذکرنیوالےاداروں کولاپتاافرادکیلیےخصوصی سیل قائم کرنے کاحکم دے دیا۔کمرہ عدالت میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے ۔لاپتاافرادکےاہلخانہ نے چیف جسٹس کے سامنے شکایات کے انبار لگا دئیے۔جس کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اٹھ کر چلے گئے۔

:تھوڑی دیر وقفے کےبعد چیف جسٹس کی دوبارہ کمرہ عدالت میں آمد ہوئی۔۔چیف جسٹس کا کمرہ عدالت میں کہنا تھا کہ آپ لوگوں نےعدالت کاتقدس پامال کیا،میراکہنابھی نہیں مانا،شورشرابا کرتےرہے۔۔چیف جسٹس دوران سماعت شعر شرابا کرنے والی خاتون پر برہم ہو گئے۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ کمرہ عدالت میں ڈائس پر آپ گھونسے ماررہی ہیں۔

(جاری ہے)

آپ کی جگہ کوئی مرد ہوتا تو جیل بھیج دیتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں آپ لوگوں کیلیےنکلامگرآپ نے توہین عدالت کی۔آپ لوگوں نے پولیس اہلکار پر ہاتھ کیسے اٹھایا۔مجھے قوم کی بیٹیوں سے اس بدتہذیبی کی توقع نہیں تھی۔بیٹی ہیں اس لیے معاف کررہا ہوں ورنہ جیل بھیج دیتا۔ڈائس پر ہاتھ مارنے والی خاتون نے غیرمشروط معافی مانگ لی۔۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ لاپتا افراد پر مجھے بڑا افسوس ہو رہا ہے۔

جوان نہیں57 سال کا شخص بھی لاپتا ہورہا ہے،پہلےبھی کہہ چکا لاپتا افراد کو بازیاب کرائیں۔پہلےبھی کہہ چکا لاپتا افراد کو بازیاب کرائیں،اگر ان کے پیاروں کے ساتھ حادثہ ہوچکا تو وہ بھی بتا دیں،کم از کم لاپتا افراد کے پیاروں کو صبر تو آسکے۔مجھے یقین ہے میری ایجنسیوں نے انہیں نہیں اٹھایا ہوگا،جس پر درخواست گزار نے کہا کہ اگر ان اداروں نے نہیں اٹھایاتو تلاش کرناان کی ذمے داری ہے۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اللہ کرے یہ تمام افراد زندہ ہوں۔