عوامی تحریک کے الیکشن نہ لڑنے کے پیچھے تحریک انصاف نکلی

تحریک انصاف نے دھرنے کے دوران عوامی تحریک سے وعدہ کیا تھا کہ مل کر الیکشن لڑیں گے،اور اب ملاقات کے لیے وقت ہی نہیں دیا جا رہا،عوامی تحریک کے پاس الیکشن نہ لڑنے کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں تھا، قومی اخبار کی رپورٹ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار جون 15:10

عوامی تحریک کے الیکشن نہ لڑنے کے پیچھے تحریک انصاف نکلی
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24جون 2018ء) قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف نے دھرنے کے دوران عوامی تحریک سے وعدہ کیا تھا کہ مل کر الیکشن لڑیں گے،اور اب ملاقات کے لیے وقت ہی نہیں دیا جا رہا،عوامی تحریک کے پاس الیکشن نہ لڑنے کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں تھا۔تفصیلات کے مطابق عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی وطن واپسی کے بعد گزشتہ روز پہلی بار ان کی شخصیت کے جلالی پہلو کا اظہار دیکھنے میں آیا۔

جب انہوں نے عام اتنخابات کو موضوع بناتے ہوئے موجودہ کرپٹ نظام اور انتخابی اصلاحات کمیٹی کے کردار اور آئین کی شق 62اور 63 کے متعلق کالم ختم کرنے پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا،،طاہر القادری نے اپنی سابقہ حلیف جماعت تحریک انصاف کی قیادت کے رویے سے مایوس ہو کر اس سے عملا دوری اختیار کر لی ہے۔

(جاری ہے)

اور ہفتہ کے روز ہونے والی پریس کانفرس میں اپنے 'سیاسی کزن' عمران خان کا نام لیے بغیر ہدف تنقید بنایا۔

اور کہا کہ ان کی جماعت کو دھرنے کے دوران تحریک انصاف کی طرف سے مبینہ طور پر یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی۔کہ مڈ ٹرم الیکشن ہو یا عام انتخابات ،،تحریک انصاف اور عوامی تحریک مل کر الیکشن لڑیں گے۔چنانچہ اس یقین دہانی پر عوام تحریک نے بھی اپنے امیدوار عام انتخابات میں اتارنے کا فیصلہ کیا تھا۔لیکن جب تحریک انصاف کے رہنماؤں نے عوامی تحریک کے رہنماخرم نواز گنڈا پور کو رمضان االمبارک میں اور عید الفطر گزرنے کے بعد ملاقات وعدوں کے باوجود ملاقات نہ کی ۔

عوامی تحریک کے صدر ڈاکٹر طاہر القادری کے زیر صدارت اجلاس میں الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔کیونکہ انہیں حقیقت کا ادراک ہو چکا تھا کہ اپنے طور پر الیکشن یں حصہ لے کر وہ کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے۔سو ان حالات میں عوامی تحریک کے پاس اس آپشن کے علاوہ اور کوئی حل نہیں تھا۔اس لیے عوامی تحریک نے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔