لاپتہ افراد کیس کی سماعت ، ‘ چیف جسٹس کا ہنگامہ آرائی کرنے والوں پر اظہار برہمی ،متعلقہ افراد کی غیر مشروط معافی

لاپتہ افراد کی معلومات اور بازیابی کے لئے ترجیحی اقدامات کریں،، سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کو باقاعدہ آگاہ کیا جائے،چیف جسٹس کے ریمارکس

اتوار جون 15:10

لاپتہ افراد کیس کی سماعت ، ‘ چیف جسٹس کا ہنگامہ آرائی کرنے والوں پر ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی معلومات اور بازیابی کے لئے ترجیحی اقدامات کریں اور سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کو باقاعدہ آگاہ کیا جائے‘ چیف جسٹس نے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی سرزنش بھی کی جس پر متعلقہ افراد نے چیف جسٹس سے غیر مشروط معافی مانگی۔

اتوار کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار نیلم عدالت میں پیس ہوئیں اور کہا کہ میرے والد چودہ ماہ سے لاپتہ ہیں لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے عدالت میں شور شرابا کیا جس پر چیف جسٹس نے عدالت میں خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا۔ خواتین نے عدالت میں زار و قطار رونا شروع کردیا شور شرابے کے باعث چیف جسٹس ثاقب نثار کمرہ عدالت سے اٹھ کر چلے گئے بعد ازاں عدالت نے رینجرز اور پولیس حکام کو دوبارہ طلب کرلیا چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتہ افراد کی معلومات اور بازیابی کے لئے ترجیحی اقدامات کریں اور سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کو باقاعدہ آگاہ کیا جائے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی سرزش بھی کی جس پر چیف جسٹس ثاقب نے کہا کہ آپ لوگوں نے میرا کہنا بھی نہیں مانا اور شور شرابہ کرتے رہے آپ لوگوں نے عدالت کے تقدس کو پامال کیا آپ کمرہ عدالت میں ڈائس پر گھونسے مار رہی ہیں۔ جس پر متعلقہ خاتون نے چیف جسٹس سے غیر مشروط معافی مانگی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ خاتون نہ ہوتیں تو میں آپ کو جیل بھیج دیتا۔ چیف جسٹس نے تمام درخواتیں وصول کرنے کا حکم دیا اور ڈی جی رینجرز‘ آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے خصوصی سیل قائم کیا جائے۔