حکو متی گڈ گورننس کے دعوے طفل تسلیوں تک محدود ہیں‘ آفتاب احمد سروری

اتوار جون 15:40

اسلام گڑھ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) تحریک نفاذ نظام مصطفی ﷺ آزاد کشمیر کے چیف آرگنائزر آفتاب احمد سروری نے کہا ہے کہ حکو متی گڈ گورننس کے دعوے طفل تسلیوں تک محدود ہیں۔محکمہ تعلیم،،صحت عامہ میں میرٹ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔انتہائی کمپرسی کے عالم تعلیم حاصل کر کے پبلک سروس کمیشن اور این ٹی ایس ٹیسٹ پاس کرنے والوں کو سفارشی اور اقرباء پروری کے کلچر نے انہیں ان کے حق سے محروم کر دیا ہے۔

قدرتی آفات اور حادثات میں فوت ہونیوالوں کو ذاتی پسند وناپسند کی بنیاد پر معاوضہ جات دیے جاتے ہیں۔پیر گلی کے مقام پر حادثے میں جاں بحق وزخمی ہونے والے افراد کے اہلخانہ آج بھی حکومت امداد کے منتظر ہیں۔حلقہ دو اسلام گڑھ چکسواری میں محکمہ تعلیم اور دیگر محکموں میں دیگر حلقوں تعیناتیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔

(جاری ہے)

اپوزیشن بھیگی بلی بن حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے میں مصروف ہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوںنے خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔انہوںنے کہا کہ متاثرین منگلا ڈیم کے مسائل جوں کے توں پڑے ہیں۔۔سردار سکندر حیات خان سے لیکر سردارعتیق،چوہدری مجید اور اب راجہ فاروق حیدر خان کی حکومت میں بھی رٹھوعہ چک ہریام پل کا معاملہ اٹکا ہوا ہے۔موجودہ حکومت اپنی اصلاح کرے بصورت وگرنہ تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کریگی۔انہوںنے چیف جسٹس آزاد کشمیر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے چیف جسٹس کی طرح اپنا کردار ادا کریں اور احتسابی عمل کو تیز کریں۔

انہوںنے کہا کہ سڑکوں کی حالت زار قابل رحم ہے۔لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے۔عوام کی بیداری نظام کو بدلنے کے لئے ہونی چاہیے تاکہ تحریک آزادی کشمیر کو تقویت ملے اور ملک کے اندر نظام مصطفی ﷺ کا نفاذ عمل میں لایا جا سکے۔انہوںنے کشمیری صحافی سید شجاعت بخاری کے بیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں کالے قوانین کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔آج کشمیر،،فلسطین،،،عراق،،شام،لبیا اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے،امت مسلمہ باہمی اختلافات کو بھلا کر یک جان ہو کر مسلمانوں کے مال وجان اور ان کے ملکوں کی حفاظت کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔