بھارت میں پاکستانی قیدیوں کو عبادت تک نہیں کرنے دی جاتی ،ْ پاکستانی شہری

اتوار جون 16:50

سیالکوٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) بھارتی قید سے آزاد ہوکر پاکستان آنے والے شہری نے کہا ہے کہ بھارت میں قید پاکستانی ابتر صورتحال سے دو چار ہیں، اور انہیں عبادت کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی۔۔بھارت نے گزشتہ 11 سال سے قید پاکستانی شہری محمد یاسین کو رہا کردیا جس کے بعد وہ پسرور تحصیل میں اپنے آبائی گاؤں چاہال پہنچ گیا۔گاؤں باسیوں نے گرم جوشی کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور اس پر پھول برسائے ،ْخوشی میں مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔

محمد یاسین سیالکوٹ میں ورکنگ باؤنڈری پر غلطی سے سرحد پار کرکے داخل ہوگیا تھا جہاں اسے بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) نے گرفتار کرلیا تھا۔محمد یاسین کو 2 سال کی سزا سنائی گئی تھی تاہم سزا پوری ہونے کے باوجود محمد یاسین 11 سال تک بھارتی جیل میں قید رہے۔

(جاری ہے)

محمد یاسین نے پاکستانی قیدیوں کی روداد سناتے ہوئے کہا کہ بھارت میں قید پاکستانی ابتر زندگی گزار رہے ہیں۔

اس نے دعویٰ کیا کہ قید میں موجود پاکستانیوں پر جیل حکام کی جانب سے بے جا تشدد کیا جاتا ہے اور انہیں کئی دنوں تک بھوکا بھی رکھا جاتا ہے۔محمد یاسین نے بتایا کہ پاکستانی قیدیوں کو بھارتی جیلوں میں نماز اور دیگر عبادات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔انہوں نے کہا کہ وہ اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں کہ بھارتی جیل میں اپنی زندگی کے 11 سال گزار کر وہ باحفاظت اپنوں کے پاس واپس پہنچ گئے اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ واپس مل کر بہت خوش ہیں۔

متعلقہ عنوان :