بیوروکریسی کی نام نہاد اکھاڑ پچھاڑ انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے، میاں افتخار حسین

صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے تقرریوں وتبادلوںکا ڈھونگ رچایا گیا،کسی او ایس ڈی کو اوپر نہیں لایا گیا ، صرف اضلاع تبدیل کرنے سے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں،نگران حکومت اور الیکشن کمیشن غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی حمایت یافتہ بیوروکریسی کو تبدیل کریں،مرکزی جنرل سیکرٹری عوامی نیشنل پارٹی

اتوار جون 18:20

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے خیبر پختونخوا میں ہونے والی بیورکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کی ناکامی قرار دیا ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے تقرریوں وتبادلوں کا ڈھونگ رچایا گیا اور سابق حکومت کے مراعات یافتہ افسران کے اضلاع تبدیل کر دیئے گئے ، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 60کے لگ بھگ سیاسی مراعات یافتہ افسران کو او ایس ڈی بنا دیا گیا جبکہ یہاں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی کسی او ایس ڈی کو اوپر لایا گیا ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اگر شفاف انتخابات کے حق میں ہے تو نیک نیتی ان ٹرانسفرز پر نظر ثانی کرے ،،جبکہ نگران حکومت کو اس معاملے کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والے افسران کو کھڈے لائن نہ لگایا گیا تو الیکشن کی شفافیت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں ، سابق دور کے ڈی آئی جیز اور ڈی پی اوز تبدیل کرنے کی بجائے انہیں دوسرے اضلاع منتقل کر دیا گیا ہے جو کسی طور قابل برداشت نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر وقت ضائع کئے بغیر اس کا حل نکالے اور الیکشن کمیشن غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام سیاسی حمایت یافتہ افسران اور بیوروکریسی کو ہٹا کر غیر جانبدار افسران کا تقرر کرائے ،انہوں نے کہا کہ پری پول رگنگ کسی صورت براداشت نہیں کی جائے گی ، انہوں نے مختلف حلقون میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت کے ممبران اسمبلی تاحال ترقیاتی کام سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس سے اے این پی کے ووٹرز متاثر ہو رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ وقت ضائع کئے بغیر صورتحال کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے معاملے کو حل کیا جائے ۔