تاجر و صنعتکار ملک کی معاشی صورتحال کی بہتری کیلیے سرگرم، نئی حکومت سے چارٹرڈ آف اکنامی پاس کرانے کی حکمت عملی تیار

معاشی پالیسیاں ملک کے لیے ہونی چاہیے ،ذاتی مفاد کے لیے نہیں ، سابق وائس چیئرمین سائٹ ایسوسی ایشن

اتوار جون 18:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) ملک کی معاشی صورتحال کی بہتری کے لیے چارٹرڈ آف اکنامی بنانے کے لیے -ملک بھر کے تاجر اور صنعتکار سرگرم ہوگئے ہیں ۔ نئی حکومت پر چارٹر آف اکنامی پاس کرانے کے لیے دباو ڈالنے کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں سے رابطے بھی کیے جائیں گے ۔۔کراچی چیمبر آف کامرس ملک بھرکے چیمبر زکے ساتھ مل کر چارٹرڈ آف اکنامی تیار کرے گا ۔

تاجر برادری کا کہنا ہے کہ کسی سیاسی پارٹی یا حکومت کو معاشی پالیسوں میں من مانی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہے، تجربات نے ملک کو معاشی طور پر تباہ کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر کے تاجر اور صنعتکار وں نے نئی آنے والی حکومت سے چارٹرڈ آف اکنامی پاس کرانے کے حکمت عملی تیار کرلی ہے ۔معاشی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے سائٹ ایسوسی ایشن کے سابق وائس چیئرمین اور سیو انڈسٹری آرگنائیزیشن کے چیئرمین یوسف یعقوب کا کہنا ہے کہ چاٹرڈ آف اکنامی ملک کی ضروت بن چکا ہے ،جب تک سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی ہم معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوسکتے ہیں، ہماری کرنسی نیچے جارہی ہے ،،بھارت کے مقابلے میں ہماری کرنسی آدھی ہوگئی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ ہم معاشی طور پر کمزور ہو رہے ہیں۔

یوسف یعقوب نے مزید کہا کہ معاشی پالیسیاں ملک کے لیے ہونی چاہیے ،ذاتی مفاد کے لیے نہیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ چارٹرڈ آف اکنامی ہر صورت میں منظور ہونا چاہیے اور ملک کی معاشی صورتحال کی بہتری کے لہیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں نے ہر بار تجربات کیے جس کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہوگئی ،آج ہم قرضوں کے بوجھ دب گئے ہیں اور ٹیکسوں کی بھر مار کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ(ن) لیگی حکومت نے ایف بی آر کو کمشنری پاور دیے جس سے تاجروں اور صنعتکاروں پر ایف بی آر کے چھاپوں کا سلسلہ شروع ہوا،جس کی وجہ سے تاجر برادری میں خوف کی صورتحال پیدا ہوئی ،ہم چاہتے ہیں ملک کے اندر اس طرح کے کالے قانون کسی بھی صورت نہیں بننے چاہییں ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ جو بھی حکومت بنے گی ہم اس سے مطالبہ کریں گے کہ ملک بھر کی تمام سیاسی پارٹیوں کو بلاکر ملک کی معاشی صورتحال کی بہتری کے لیے معاشی پالیسی تیار کی جائے جو کم سے کم 20برس کے لیے ہو اور اس پالیسی میں تبدیلی کی کسی بھی پارٹی کو اجازت نہیں ہونی چاہییے ،تمام پارٹیاں اس پر عمل کرنے کی پابند ہوں ۔

انہوںنے کہا کہ ایف بی آر میں کمشنری پاور سے ملک کی معاشی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے ۔چارٹرڈ آف اکنامی ہر صورت میں منظور ہونا چاہیے اور ملک کی معاشی صورتحال کی بہتری کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں ۔