سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو زدوکوب کرنا قابل مذمت ہے ، رابطہ کمیٹی

عدالت کا احترام اپنی جگہ محترم ہے تاہم چیف جسٹس کو لاپتہ افرادکے اہل خانہ کے جذبات کا بھی احترام کرنا چاہیے

اتوار جون 18:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت ملتوی کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اورمطالبہ کیاہے کہ لاپتہ افراد کی دادفریاد سننے اورانہیں انصاف فراہم کرنے کیلئے ٹھوس اورعملی اقدامات کیے جائیں ۔ ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ میڈیا کے ذریعہ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس ثاقب نثار نے اتوار کو کراچی میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کا اعلان کیا تھا تاہم جب لاپتہ افراد کے اہل خانہ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری پہنچے تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے بزرگوں ، خواتین اور بچوں کو زدوکوب کیااورانہیں منتشر کردیا جبکہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کی جانب سے کہاجارہا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے عدالت کے تقدس کا احترام نہیں کیا۔

(جاری ہے)

رابطہ کمیٹی نے کہاکہ عدالت کا احترام اپنی جگہ محترم ہے تاہم چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو لاپتہ افرادکے اہل خانہ کے کرب واذیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے جذبات کا بھی احترام کرنا چاہیے اور ان کے پیاروں کی بازیابی کیلئے آئینی کردار ادا کرنا چاہیے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے انکے اہل خانہ کی جانب سے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر ہیں اورہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار سندھ ہائی کورٹ سے دریافت کرتے کہ ان پٹیشن پراب تک کارروائی کی گئی ہے لیکن اسکے برعکس چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کی جانب سے اچانک لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری طلب کرلیا اور متاثرہ خاندانوں کی فریاد سننے کے بجائے عدالت کے تقدس کوجواز بناکر متاثرہ خاندانوں کو منتشرکرادیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔

رابطہ کمیٹی نے کہاکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین متعددبار اپنے خطابات میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کومخاطب کرکے اپیل کرچکے ہیںکہ جناح گراؤنڈعزیزآباد یا قائداعظم کے مزار پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو جمع کیاجائے اورایک ایک کرکے ان کی فریاد سنی جائے لیکن چیف جسٹس آف سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی فریاد سننے کیلئے ٹھوس ، عملی اور مثبت اقدامات نہیں کیے ۔

رابطہ کمیٹی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس ثاقب نثارسے دردمندانہ اپیل کی کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کئی کئی برسوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے منتظرہیں ، بوڑھے والدین، سہاگنیں اور معصوم بچوں کاایک ایک پل اذیت میں گزررہا ہے ، خدارا ان کے دکھ ، کرب اوراذیت کو محسوس کیاجائے اور ان کے پیاروں کی بازیابی کیلئے ٹھوس اورعملی اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔