مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کراچی ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مختلف رہنمائوں کا پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان

پیپلز پارٹی کے دروازے تمام جمہوریت پسند اور روشن خیال لوگوں کے لیئے کھلے ہیں، وقار مہدی، سعید غنی

اتوار جون 19:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کراچی ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مختلف رہنماوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا سیل، بلاول ہاوس میں پی پی پی سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مھدی، کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی، ضلع ملیر کے صدر مرتضی بلوچ، راجہ رزاق اور سینیئر رہنما حکیم بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) سندھ کے سینیئر رہنما و جوائنٹ سیکریٹری حاجی چن زیب سواتی، خواتین ونگ کی نائب صدر ڈاکٹر روبینہ شاہین، اورنگزیب تنولی، رٹائرڈ ایس پی شاہنواز خان، بکر مگسی، عامر خان، عبدالواحد خان ایڈووکیٹ، اعجاز احمد، راجہ نعیم اختر، سمیع نیازی، نور خان باجوڑی، انور گجر، زاھد گجر، نوید احمد اور دیگر رہنما، جبکہ تحریک انصاف کے رہنما جاوید خان ملاخیل، راجہ نیئر عباس (کونسلر) ، ناصر جدون، رانا شہباز (کونسلر) ، رحیم نواز (کونسلر) ، سینئر رہنما افتخار ستی اور دیگر رہنما و کارکنان، اور گجر برادری ضلع ملیر کے معزز سجاول گجر، ماجد قریشی، شہروز ترین ایڈوکیٹ، عادل قریشی، فتح بزنجو، راجہ سعادت اور دیگر نے اپنی اپنی پارٹیوں سے علحیدگین ور پاکستان پیپلز پارٹی میں باضابطہ طور شمولیت کا اعلان کیا۔

(جاری ہے)

پی پی پی سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مھدی اور پی پی پی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی نے پارٹی میں شمولیت کرنے والے تمام رہنماوں، کارکنان اور معززین کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ وہ تمام سیاسی رہنما، کارکنان اور معززین ہیں، جن کی شمولیت سے پارٹی مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دروازے تمام جمہوریت پسند اور روشن خیال لوگوں کے لیئے کھلے ہیں۔

پی پی پی رہنماوں کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کراچی کے ان علاقوں سے بھی سیٹیں نکالے گی، جن کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر ہے کہ وہاں پیپلز پارٹی کمزور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تین دہائیوں کے بعد کراچی کی عوام کو بلا خوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا موقعا مِل رہا ہے اور کراچی کے عوام یہ موقعا پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے شہرِ قائد میں محبتوں اور بھائی چارے کی سیاست کو پروان چڑھانے کے لیئے استعمال کریں گے۔