اقتدار میں آکر مرکز سے نیا این ایف سی ایوارڈ منظور کرائیں گے، امیر حیدر ہوتی

تعلیم ہماری پہلی ترجیحات میں شامل ہے،یونیورسٹی ایکٹ پرنظرثانی کرکے جامعات کو خودمختاری دی جائے گی، پی ٹی آئی کی سابق حکومت نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا ،حکومت ملی تو پہلے سال یونیورسٹی کے فیز ٹو اور تھری پر کام شروع ہوگا، ہسپتالوں اور سڑکوں سمیت دیگر ادھورے منصوبے مکمل کرکے دم لیں گے، پی ٹی آئی سے سیاسی انتقام لینے کی بجائے ان کے منصوبوں کو سب سے پہلے فنڈزفراہم کریں گے، سابق وزیر اعلی کا تقریب سے خطاب

اتوار جون 20:30

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ صوبے کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اقتدار میں آکر مرکز سے نیا این ایف سی ایوارڈ منظور کرائیں گے، تعلیم ہماری پہلی ترجیحات میں شامل ہے،یونیورسٹی ایکٹ پرنظرثانی کرکے جامعات کو خودمختاری دی جائے گی، پی ٹی آئی کی سابق حکومت نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا ،حکومت ملی تو پہلے سال یونیورسٹی کے فیز ٹو اور تھری پر کام شروع ہوگا، ہسپتالوں اور سڑکوں سمیت دیگر ادھورے منصوبے مکمل کرکے دم لیں گے، پی ٹی آئی سے سیاسی انتقام لینے کی بجائے ان کے منصوبوں کو سب سے پہلے فنڈزفراہم کریں گے ،وہ ایک نجی ہال میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے پروفیسرز اورملازمین پر مشتمل ایسوسی ایشن ’’ فرینڈز آف آکوم‘‘کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ تقریب سے خطاب کررہے تھے ،تقریب سے اے این پی کے ضلعی صدراور پی کے 51سے نامزد امیدوار حمایت اللہ مایار، فرینڈز کے صوبائی صدر پروفیسرڈاکٹر ادریس،پروفیسر ڈاکٹر اورنگ زیب،پروفیسرڈاکٹر قادر بخش،پروفیسر راشد اوریونیورسٹی ایمپلائز یونین کے صدر اجمل مایار سمیت دیگرنے بھی خطاب کیا اور سابق وزیراعلیٰ کی خدمات اور یونیورسٹی کے قیام پر ان کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا، امیرحیدرخان ہوتی کاکہناتھاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے نام سے موسوم مردان کی یونیورسٹی کوسیاسی انتقام کانشانہ بنایا اوراپنے دورمیں اس جامعہ کے مالی اورانتظامی بحران پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، ان کاکہناتھاکہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں کسی خاص سیاسی جماعت کے بچے تعلیم یا ملازمت نہیں کررہے بلکہ ملک بھر سے بچوں اور بچیوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ملازمتیں بھی ملی ہیں، انہوں نے کہاکہ ہم نے سیاسی مخالفت کے باوجود عمران خان کے کینسر ہسپتال کو کروڑوں کی مفت اراضی دی، انتخابات میں اے این پی سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی کامیابی ملی توسابق حکومت کے جاری منصوبوں کو سب سے پہلے فنڈزجاری کریں گے اوردوسال کے اندر اے این پی دور کے ادھورے منصوبے مکمل کرکے دم لیں گے، انہوں نے کہاکہ سابق حکومت نے صوبے کو مالی مشکلات سے دوچار کردیا جس کے باعث آنے والی حکومت کو 80سے سو ارب روپے کے اضافی اخراجات کے لئے انتظامات کرنے ہوں گے ،امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے دورمیں توانائی بحران کے حل کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کی اے پی سی طلب کرکے ان کی مشاورت سے ہائیڈرل ایکشن پلان ترتیب دیاگیا تھاہمارے دور میں پانچ ڈیم بھی بنے اور چھٹے ڈیم پر تحریک انصاف نے کام شروع کیا دوبارہ اقتدار ملاتو ہائیڈل پلان پر دوبارہ سے عمل درآمد شرو ع کیاجائے گا، صوبائی حکومت سے نیا این ایف سی ایوارڈ منظور کرایا جائے گا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے ضلعی صدر اور سابق ضلع ناظم حمایت اللہ مایار نے کہاکہ سابق حکومت نے صوبے کو مالی،سیاسی اور اخلاقی بحران میں مبتلا کردیا اور صوبے کے عوام کو 360ارب روپے قرضے کے بوجھ تلے چھوڑ کر چلے گئے، ان کاکہناتھاکہ منی خیلہ کے چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان علی نے عبدالولی خان یونیورسٹی کو بام عروج پر پہنچا یا جبکہ انگلینڈ سے خصوصی مراعات کے تحت آنے والے نئے وائس چانسلر نے جامعہ کو ہیرو سے زیرو بناکررکھ دیا،اقتدارمیں آکر مخالفین سے حساب کتاب لیاجائے گا۔