نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر نے پارٹی منشور کا اعلان کر دیا

امن وامان ،صحت،تعلیم ،زراعت ،اقتصادی راہداری ،گوادر ،ماحول کا تحفظ ،خواتین ،اقلیتوں کے حقوق سر فہرست

اتوار جون 21:00

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر میر حاصل بزنجو نے اپنی پارٹی کا 21نکاتی انتخابی منشور کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ پارٹی آج سے ملک گیر انتخابی مہم کاآغاز کررہی ہے ،نیشنل پارٹی کے رہنمائوں اور ورکرز پر حملے ہورہے ہیں اب تک ہمارے 50سے زائدقائدین اور ورکز قتل کئے گئے ہیں ،،نگران حکومت کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست نہیں تھا انتخابات سے قبل پری پول ریگنگ کا سلسلہ چل پڑاہے جس کے بعد شائد انتخابات کے دوران دھاندلی کی ضرورت ہی نہ پڑے،باپ کیلئے میں صرف ’’کریکٹرلیس‘‘ کالفظ استعمال کروںگا میری نظر میں باپ پرانا ق لیگ ہے ،جام کمال کابطور صدر چنائو بڑی خوبصورت چوائس ہے،لوکل اورڈومیسائل کے مسئلے پرنیشنل پارٹی نے بلوچستان اسمبلی میں بل پیش کرنے کی کوشش کی لیکن حکومت میں شامل اتحادیوں کی جانب سے اعتراض پر اس بل کو پیش نہیں کیا جاسکا،ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل محراب مری ،سینیٹر میر کبیراحمدمحمدشہی ،عبدالخالق بلوچ ،یاسمین لہڑی ،حاجی عطاء محمدبنگلزئی ،سینیٹرڈاکٹر اشوک کمار ودیگر کے ہمراہ 21نکاتی انتخابی منشور کے اعلان کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

میر حاصل بزنجو کاکہناتھاکہ انتخابی منشور کے اعلان کے ساتھ ہی نیشنل پارٹی نے آج سے پورے ملک میں انتخابی مہم کاآغاز کردیاہے اگر ہماری جماعت کو عام انتخابات میں بھرپور عوامی مینڈیٹ ملا تو ہم اپنے 21نکاتی انتخابی منشور پر صحیح عملدرآمد کراسکیںگے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو انتخابی منشور پر ہم کم عملدرآمد کرانے میں کامیاب ہونگے ۔

انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ انتخابی مہم میں مصروف ہے اس لئے وہ پریس کانفرنس میں شرکت نہیں کرسکے ہیں ،وزارت اعلیٰ نے لوگوں کو پتہ نہیں کیا کچھ نہیں دیا تاہم ڈاکٹرمالک بلوچ کہتے ہیں انہیں وزارت اعلیٰ سے بلڈ پریشر اورٹینشن کے امراض لاحق ہوگئے ہیں انہوں نے خیر جان بلوچ کے قافلے پر حملے کی مذمت کی اور کہاکہ اس سے قبل بھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ،جان بلیدی ،خیر جان بلوچ ،رحمت صالح بلوچ سمیت دیگر پارٹی عہدیداران اور کارکنوں پر حملے کئے گئے ہیں ،انہوں نے نگران حکومت اور کابینہ پر تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ نگران حکومت کو جس انداز سے تشکیل دیا گیا وہ درست نہیں الیکشن کمیشن سے لوگوں کی بہت زیادہ توقعات وابستہ تھی لیکن اس کے ذریعے بھی انفلیونس کیا گیا چیف الیکشن کمشنر کو بھی انفلیونس کیا گیا اورالیکشن کمیشن کو نگران وزیراعلیٰ کانام لکھ کردیاگیا تھا اسی لئے ہم نگران حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ،میر حاصل بزنجو کاکہناتھاکہ نیشنل پارٹی کی21نکاتی منشور میں ایک مرتبہ پھر امن وامان ،صحت،،تعلیم ،زراعت ،،اقتصادی راہداری ،گوادر ،ماحول کا تحفظ ،خواتین ،اقلیتوں کے حقوق ،قومی زبانوں کی حیثیت کی بحالی ،ہمسایہ ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات ،،دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے ،تحریر وتقریر اور تنظیم سازی کی آزادی کو یقینی بنانے ،عوام کی حق رائے دہی کااحترام اور تحفظ ،سرکاری ملازمین کی ترقی وتحفظ،کھیلوں کے فروغ ،،پانی بحران کے خاتمے کیلئے ڈیمز کی تعمیر سمیت دیگر کو ترجیح دی گئی ہے بلکہ ہمارے منشور میں لوکل اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے دوہرے شہری نظام کو ختم کرکے نیشنل عوامی پارٹی نیپ کی حکومت کی پاس کردہ قرارداد جس میں کہاگیاہے کہ ون یونٹ سے قبل بلوچستان میں آباد افراد کو لوکل تصور کیاجائے اور ون یونٹ کے بعد جعلی ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹوں کو منسوخ کیاجائے پرعملدرآمد چاہتی ہے اس سلسلے میں نیشنل پارٹی نے بل پیش کرنے کیلئے بھی کوششیں کی لیکن اس میں ہمیں حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کی جانب سے مخالفت کے باعث کامیابی نہ مل سکی ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کیلئے میں صرف ’’کریکٹر لیس‘‘کا لفظ ہی کہوں گا جام کمال کو صدر بنانا بڑی خوبصورت چوائس ہے کیونکہ وہ اپنے آبائواجداد سے بلوچستان کی سیاست میں چلے آرہے ہیں میں باپ کو پرانا ق لیگ ہی کہوں گا انہوں نے کہاکہ پری پول ریگنگ اتنی کی گئی ہے شاید انتخابات میں دھاندلی کی ضرورت ہی نہ پڑے ان کاکہناتھاکہ بقول عمران خان کے بلوچستان میں الیکشن سے قبل ہی تبدیلی آگئی ہے ،انہوں نے کہاکہ اقتدار میں آتے ہی ہم نے لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانے سے متعلق موثرانداز میں صدائے حق بلند کی جس میں ہمیں کافی حد تک کامیابی بھی ملی اور امن وامان کی صورتحال میں بہت حد تک بہتری آئی