ڈاکٹر طاہر القادری کی جدوجہد کرپٹ عناصر کی غلامی سے نجات کیلئے ہی: خرم نواز گنڈا پور

اتوار جون 21:00

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے کہ نواز شریف انتہائی برے حالات میں پاکستان کو چھوڑ کر گئے،،نواز شریف اسحاق ڈار کو اپنی یا کسی کی بیماری کی آڑ میں احتساب سے راہ فرار اختیار نہیں کرنی چاہیے،،کلثوم نواز کی صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں،ان کی دیکھ بھال کیلئے ان کے دو اشتہاری بیٹے کافی ہیں جو کم عمری میں اربوں ڈالر کے بزنس سنبھال سکتے ہیں وہ اپنی جنت کی دیکھ بھال کیوں نہیں کر سکتی اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اسی فرسودہ نظام کے تحت ہونیوالے انتخابات سے تبدیلی آ جائے گی تو وہ اپنی اصلاح کر لے ،ملک بچانے کیلئے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

پاکستان عوامی تحریک عوام کو کرپٹ عناصر کی غلامی سے نجات دلانے کیلئے جدوجہد کر رہی ہے،اس جدوجہد میں عوام کو شریک کرنے کیلئے عوامی تحریک کے کارکن متحرک اور پر عزم ہیں،متوسط طبقے کی قیادت کو آگے لانے کیلئے ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے،قیادت 3فی صد سے چھین کر 97فی صد کو منتقل کرنا ہوگی اسی سے پاکستان حقیقی اسلامی اور جمہوری ملک بنے گا ۔

(جاری ہے)

پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے ملک وقوم کو لاحق حقیقی مرض کی تشخیص ایک بار پھر کر دی ہے۔۔ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاسی جدوجہد سے وہ دن دور نہیں جب اس ملک میں حقیقی جمہوریت اور خوشحالی آئے گی،عوامی تحریک کے قائد کی سوچ مثبت،صحیح اور درست سمت پر ہے۔کرپٹ،،قاتل اور چور سرمایہ دار حکمرانوں نے ہمیشہ عوام کا استحصال کیا ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی جدوجہد اس قوم کا مقدر بدلنے کیلئے ہے اس قوم کا مقدر تب بدلے گا جب یہ ظالمانہ نظام بدلے گا۔وہ مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں پاکستان عوامی تحریک سنٹرل پنجاب کے عہدیداران و کارکنان سے خطاب کرہے تھے ۔اس موقع پر بشارت جسپال،میاں ریحان مقبول،ایم ایچ شاہین ایڈووکیٹ،عارف چودھری،راجہ زاہد محمود،چودھری افضل گجر،میاں عبد القادر،میاں کاشف،راجہ ندیم و دیگر بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابی نظام عوام کے حقوق اور خوشیوںکا قاتل ہے۔۔ڈاکٹر طاہر القادری کی جدوجہد ملک کو باوقار مقام دلانے کی منزل تک لیجانے کیلئے ہے۔موجودہ نظام کے تحت منتخب ہونیوالوں نے قوم کو خودکشیاں،بے روزگاری اور وقار کی بربادی کے علاوہ کبھی کچھ نہیں دیا،عوام کو اپنی ذمہ داریوں کو پہچانتے ہوئے موجودہ ظالمانہ نظام کے خلاف انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرنا ہو گا۔استحصالی نظام انتخاب کو بدلے بغیر خیر کی توقع رکھنا خود کر دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔