مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے کولگام میں3کشمیری نوجوان شہید کر دیے

مشترکہ حریت قیادت کی طرف سے منگل کو ہڑتال کی کال،مڑھل جعلی مقابلے کی عالمی ادارے سے تحقیقات کا مطالبہ

اتوار جون 21:10

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران گزشتہ روز ضلع کولگام میں 3کشمیری نوجوان شہید کر دیے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے ان نوجوانوں کو ضلع کے علاقے قیموہ میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ علاقے کے لوگوں نے فوجی آپریشن کے خلاف اور نوجوانوں کی شہادت پر زبردست احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔

بھارتی فورسز کے اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولوں کا بے دریغ استعمال کیا گیا جسکے بعد مظاہرین اور فورسز اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ آخری اطلاعات تک بھارتی فوج کا آپریشن اور جھڑپوں کا سلسلہ جار ی تھا۔

(جاری ہے)

قابض انتظامیہ نے لوگوں کو تازہ ترین صورتحال کے بارے میں ایک دوسرے کو معلومات کی فراہمی سے روکنے کیلئے کولگام اور اسلام آبادکے اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں۔

بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے گزشتہ جمعہ کو ضلع اسلام آ باد کے علاقے سریگفوارہ میں زخمی ہونے والا نوجوان شاہد نذیر آج سرینگر کے صورہ ہسپتال میں چل بسا۔دریں اثنا سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں بھارتی فورسز کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور نوجوانوں کے پے در پے قتل کے خلاف 26جون بروز منگل مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔

مشترکہ قیادت نے ضلع کپواڑہ کے علاقے مڑھل میں رواں ماہ کی چھ تاریخ کو ایک جعلی مقابلے میں تین نوجوانوں کے قتل کی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل یا کسی عالمی ادارے کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر میں ایک انٹرویو میں مذاکرات کی بھارتی پیشکش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ بات چیت اور قتل عام ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

مسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈار سوپور گئے اور آٹھ برس کی غیر قانونی نظر بندی کے بعد تہاڑجیل سے حال ہی رہا کیے جانے والے کشمیریو ں غلام جیلانی صوفی اور محمد صدیق گنائی سے ملاقات کی۔ شبیر احمد ڈار نے اس موقع پر بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند تمام کشمیریوں کو رہا کرے۔ حریت رہنما مختار احمد وازہ اور یاسمین راجہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھو ں حال ہی میں شہید ہونے والے نوجوانوں کے اہلخانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کولگام اور پلوامہ گئے۔

ادھر بھارتی پولیس نے سینئر حریت رہنما مسرت عالم بٹ کو ایک جھوٹے مقدمے میں عدالت میں پیشی کے سلسلے میں جموں خطے کی کوٹ بلوال جیل سے سرینگر لایا جسکے بعد انہیں واپس کوٹ بلوال جیل منتقل کیا گیا۔ بھارتی پولیس نے ترال کے مختلف علاقوں میںرات کے وقت چھاپوں کے دوران سات نوجوان گرفتار کر لیے۔مختلف صحافتی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے اپنے بیانات میں کشمیری صحافیوں کو دھمکی دینے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما چودھری لال سنگھ کی شدید مذمت کی۔

لال سنگھ نے گزشتہ روز جموں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندو ں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ کشمیری صحافی شجاعت بخاری کے جیسے انجام کے لیے تیار رہیں۔ شجاعت بخاری کو نامعلوم مسلح افراد نے رواں ماہ کی 14تاریخ کو سرینگر میں اپنے دفتر کے باہر قتل کر دیا تھا۔۔برطانیہ کے شہر لیوٹن میںمنعقدہ ایک کانفرنس کے مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں شہریوں پر بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے پر شجاعت بخاری کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ مقررین میں پروفیسر نذیر احمد شال، نذیر احمد قریشی ، پروفیسر محمد عارف،ایو ب راٹھور، سید تحسین گیلانی، شبیر ملک اور سردار امجد عباسی شامل تھے۔