جمعیت کے امیدواراپنے نصب العین کی بنیاد اور اللہ کے بھروسے پرانتخابی مہم کا بھرپور آغاز کریں،مولانا سمیع الحق

اتوار جون 22:00

نوشہرہ کینٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) جمعیت کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس جمعیت کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ جمعیت کے روابط اور مشترکہ سیاسی جدوجہد کے لئے ہونے والے تبادلہ خیال پر غور کیا گیا ،اجلاس کے بعد مولانا سمیع الحق نے الیکشن 2018کے لئے جمعیت کی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہاکہ جمعیت کے امیدواراپنے نصب العین کی بنیاد اور اللہ کے بھروسے پرانتخابی مہم کا بھرپور آغاز کریں۔

ہماراانتخابی اتحاد سیکولرایجنڈارکھنے اور کرپشن،،آئین پاکستان سے انحراف اوراسلامی نظام کے راستے میں رکاوٹ بننے والی حکومتوں کیساتھ شریک اقتدار رہنے والی سیاسی قوتوں کیساتھ نہیں ہوسکتا۔۔جمعیت کے رہنماوں نے تحریک انصاف اورمتحدہ مجلس عمل کے نمائندوں کو پاکستان سے امریکی مداخلت کے خاتمے۔

(جاری ہے)

خلافت راشدہ کی طرزپرحکمرانی کے قیام ،شریعت کے مکمل اوربلاتاخیرنفاذ کے لئے اپناسترہ نکاتی فارمولہ پیش کیالیکن کوئی سیاسی قوت بھی اسکی حمایت کرنے کی جرات پرآمادہ نہیں،جبکہ جمعیت مبہم نعروں کے ذریعہ قوم کودھوکے میں مبتلارکھنے کوسیاسی مکاری سمجھتی ہے۔

جمعیت کا منفرد اور مقدس نصب العین اس کی اجازت نہیں دیتا کہ قوم کو دلفریب نعروں کے ساتھ دھوکا دیا جائے،چنانچہ کسی سیاسی قوت کے مثبت فیصلوں کا انتظار کرنے اورتذبذب میں مبتلارہنے کی بجاے جمعیت کے کارکن اپنی جدوجہد کا آغازکردیں۔ ہمارامقابلہ کل بھی عالمی قوتوں کے آلہ کارسیاستدانوں سے تھا۔آج بھی ہے اورمستقبل میں بھی جاری رہے گا۔۔مولانا سمیع الحق کی طرف سے جمعیت کے مرکزی سیکرٹریٹ اکوڑہ خٹک سے جاری پیغام میں کہاگیاہے کہ جمعیت اپنے ضمیراوراکابرکے ورثے کی حفاظت پراللہ کے سامنے سرخروہوگی،ہمارے کارکن نفاذ شریعت کی جدوجہد کو ہر سطح پر منظم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور قوم کو اعتماد میں لے کر اپنی سیاسی صف بندی جمعیت علماء اسلام کے نصب العین کی روشنی میں کریں گے ۔

مولانا سمیع الحق نے مختلف جماعتوں کی طرف سے رابطوں کے بعد مشترکہ جدوجہد کے لئے جمعیت کی طرف سے پیش کئے سترہ نکات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو علامہ اقبال اور قائداعظم کے افکار کی روشنی میں خلافت راشدہ کے طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنانا، قوم کے ہر فرد کو تعلیم ،انصاف،،علاج اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا،ملک کے عدالتی ،معاشی اور سیاسی نظام کی اصلاح کرنا، اقلیتوں کو اسلام کے عادلانہ قانون کے مطابق ان کے حقوق فراہم کرنا، اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سامراجی طاقتوں کی مداخلت اور تسلط سے آزاد کرنا، دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرنا، اور کسانوں ،مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کی حفاظت کرنا۔

جمعیت کا سیاسی نصب العین اورملک میں حقیقی تبدیلی کے لئے جمعیت کے نصب العین سے بہتر کسی سیاسی جماعت کے پاس منشور نہیں، مولانا سمیع الحق نے جمعیت کے کارکنوں کو پیغام دیا کہ وہ محض اپنے نصب العین کی بنیاد پر اپنے حلقوں میں الیکشن کے لئے دوسری جماعتوں اور امیدواروں کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ کرسکتے ہیں۔