رائے ونڈ ، اداروں سے ٹکراؤ مسلم لیگ ن کی پالیسی ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں، چوہدری عبدالغفور خان میو

میری سب سے پہلی ترجیح اسلام اور پاکستان ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ،میری پارٹی چھوڑنے کی وجہ ٹکٹ نہیں اداروں کے خلاف ٹکراؤ اور سازشیں ہیں جو ن لیگ کی طرف سے کی جا رہی ہیں،سابق صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس

اتوار جون 22:00

ْرائے ونڈ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) اداروں سے ٹکراؤ مسلم لیگ ن کی پالیسی ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں،سابق صوبائی وزیر چوہدری عبدالغفور خان میو نے پریس کلب لاہور میں مسلم لیگ ن سے اپنی 28 سالہ رفاقت ختم کرنے کا اعلان کر دیا دوران پریس کانفرنس انہوں نے بتایا میری سب سے پہلی ترجیح اسلام اور پاکستان ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں میری پارٹی چھوڑنے کی وجہ ٹکٹ نہیں اداروں کے خلاف ٹکراؤ اور سازشیں ہیں جو ن لیگ کی طرف سے کی جا رہی ہیں،انہوں نے کہا مسلم لیگ ن کی حکومت نے ممتاز حسین قادری کو پھانسی کے پھندے پر چڑھایا اسلام دشمن پالیسیاں بنائیں ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا سوچی سمجھی سازش کے تحت ملکی اداروں کے خلاف سازشیں تیار کی گئیں اور نعرہ جمہوریت اور پاکستان کو مضبوط کرنے کا لگایا جا رہا ہے انہوں نے کہا اصل میں اندرونی طور پر اداروں کے خلاف سازشیں کر کے پاکستان کو کھولا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو پاکستانی ہونے کے ناطے مجھے قبول نہیں ہے انہوں نے کہا نواز لیگ پاکستان دشمن مودی کے ساتھ کھڑی ہے چوہدری عبدالغفور خان میو نے کہا اس وقت مسلم لیگ ن میں ٹکٹوں کی خرید و فروخت جاری ہے اور دعوے میرٹ پر دینے کے کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا میں پوچھنا چاہتا ہوں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کا کیا معیار ہے ،کیا ٹکٹ کا اہل ہونا ارب پتی اور لینڈ مافیا ہونا ضروری ہے چوہدری عبدالغفور خان میو نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا پاکستان شریف برادران کی جاگیر نہیں ہے کہا جا رہا کہ میں نے اپنے لئے ٹکٹ مانگا تھا نہیں ملا تو پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر رہا ہوں انہوں نے کہا میں نے تو اپنے کاغذات ہی جمع نہیں کرواے ٹکٹ کس کے لیے مانگتا انہوں نے کہا میں نے پارلیمانی بورڈ میں واضح طور پر کہا تھا ملکی خزانہ لوٹنے والے اور قبضہ مافیا کو ٹکٹ نہ دیئے جائیں مگر میری تجویز کو ٹھکرا کر قبضہ مافیا کو ٹکٹ دیے جا رہے ہیں ان حالات میں میں مزید مسلم ن کے ساتھ نہیں چل سکتا اور آج سے مسلم لیگ ن سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں چوہدری عبدالغفور خان میو نے ایک سوال کے جواب میں کہا میں نے شریف خاندان کے اپنے کندھوں پر جنازے اٹھاے ڈکٹیٹر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا شریف خاندان اور مسلم لیگ ن کے لئے جیلیں کاٹیں اور مقدمات کا سامنا کیا مگر شریف برادران ان میں پارٹی ورکرز کے لئے وفا نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی انہوں نے کہا میں نے پارٹی چھوڑنے کا اس دن ہی فیصلہ کر لیا تھا جب ماڈل ٹاؤن میں حاملہ خاتون کے منہ میں گولیاں ماری گئیں اور ممتاز قادری کو پھانسی کے پھندے پر چڑھایا گیا مگر پارٹی لیڈروں کی طرف سے ایسا نہ کرنے پر مجبور کیا گیا اب میں آزاد ہوں اور جہاں جہاں میو الیکشن لڑ رہے ہیں میں ان کی حمایت میں جلسے کروں گا اور وہاں لوگوں کو میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی اصلیت بتاؤں گا اور مسلم لیگ ن والوں کو بتاؤں گا کہ میو برادری کیا ہے اور اس میں کتنی غیرت ہے۔