تحریک انصاف سیاسی مہاجرین کی پارٹی بن چکی ،عمران خان نے کھرب پتی سیاسی بھگوڑوں کو ٹکٹ دے کر غلط روایت ڈالی، اسفند یار ولی

پشاور کو بی آرٹی کے نام پر آثار قدیمہ میں تبدیل کیا گیا ہے مولانا فضل الرحمان ایک ٹیلی فون کال پر پارلیمنٹ سے فاٹا انضمام بل رکوا سکتے ہیں مگر نفاذ اسلام کیلئے کبھی نوا ز شریف کو نہیں کہا، پاکستان میں ہر پانچ سال بعد ووٹ کیلئے اسلام کو زندہ کیا جا تا ہے، شاہ حسین سنگین محمدزئی کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب

اتوار جون 22:10

چارسدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی مہاجرین کی پارٹی بن چکی ہے ۔ عمران خان نے کھرپ پتی سیاسی بھگوڑوں کو ٹکٹ دے کر غلط سیاسی روایت ڈال دی ہے ۔ پشاور کو بی آرٹی کے نام پر آثار قدیمہ میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان ایک ٹیلی فون کال پر پارلیمنٹ سے فاٹا انضمام بل رکوا سکتے ہیں مگر نفاذ اسلام کیلئے کبھی نوا ز شریف کو نہیں کہا ۔

پاکستان میں ہر پانچ سال بعد ووٹ کیلئے اسلام کو زندہ کیا جا تا ہے ۔وہ چارسدہ میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے رہنماء شاہ حسین سنگین محمدزئی کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر ایمل ولی خان ، بیرسٹر ارشد عبداللہ ، قاسم علی خان محمد زئی اور پارٹی کے دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے ۔

(جاری ہے)

اسفندیارولی خان نے مرحوم شاہ حسین سنگین محمدزئی کے پارٹی خدمات کو زبر دست خراج تحسین پیش کیا ۔

اسفندیار ولی خان مرحوم کا ذکر تے ہوئے آبدیدہ ہوگئے اور تقریر ادھوری چھوڑ کرچلے گئے ۔ اپنے خطاب میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ شاہ حسین سنگین محمد زئی کو خراج عقیدت پیش کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم سب مل کر ان کے نقش قدم پر چلے اور باچا خان کے فلسفہ سیاست کو زندہ و جاوید رکھیں ۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ دھرتی ماں کی جنگ کا وقت آچکا ہے ۔

کارکن ناراض ساتھیوں اور دوسرے پارٹیوں کے لوگوں کو منا کر اے این پی کے منشور اور نظریات سے آگاہ کریں اور 25جولائی کو پارٹی امیدواروں کو کامیاب کرکے روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں ۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پاکستان میں ہر پانچ سال بعد اسلام کو ووٹ کیلئے زندہ کیا جاتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان فاٹا انضمام کو ایک ٹیلی فون پر رکوا سکتے ہیں مگر نفاذ اسلام کیلئے کبھی نواز شریف پر زور نہیں دیا ۔

پانچ سال تک جماعت اسلامی عمران خان اور مولانا فضل الرحمان نواز شریف کے اتحادی رہے اور اقتدار کے مزے لیتے رہے مگر آج دونوں مل جل کر عمران خان اور نوا ز شریف پر تنقید کرکے عوام کو بے وقوف بنانے کی کو شش کر رہے ہیں۔ اسفندیارولی خان نے عمران خان اور تحریک انصاف کے سابق صوبائی حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ تبدیلی کے دعویداروں نے پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کیا اور آج پشاور آثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف سیاسی مہاجرین کی پارٹی بن چکی ہے ۔ عمران خان نے کھرپ پتی سیاسی بھگوڑوں کا اچار بنا کر غلط سیاسی روایت ڈال دی ہے اور پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کرکے سیاست کو پراگندہ کیا ہے ۔