سمجھ سے بالا تر ہے الیکشن کمیشن کے کسی طرح حلقہ بندیاں کیں، شاہد خاقان عباسی

کلر سیداں کی 6 یونین کونسلر کومیرے حلقہ میں شامل کیا گیا جس میں کبھی گیا ہی نہیں کاغذات نامزدگی میںاثاثوں کی تفصیلات اور بیان حلفی میں پوچھے گئے سوالات سیاستدانوں کی بد نامی جا رہی ہے، حلقے کی عوام منفرد اچھا الیکشن ہو گا ، نجی ٹی وی سے گفتگو

اتوار جون 22:30

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سمجھ سے بالا تر ہے الیکشن کمیشن نے کسی طرح حلقہ بندیاں کی ہیں، کلر سیداں کی 6 یونین کونسلر کومیرے حلقہ میں شامل کیا جس میں کبھی گیا ہی نہیں کاغذات نامزدگی میںاثاثوں کی تفصیلات اور بیان حلفی میں پوچھے گئے سوالات سیاستدانوں کی بد نامی جا رہی ہے حلقے کی عوام منفرد اچھا الیکشن ہو گا گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے حلقے میں کافی تبدیلی آئی ہے نمبر بھی تبدیل ہوا میرے حلقے میں ایک طرف کے پی کے ایک طرف کشمیر دوسری طرف اسلام آباد واقع ہے اس حلقے میں پنڈی کی پانچ تحصلیں اس حلقے میں آگئی ہیں الیکشن کمیشن نے ایک حلقے میں چار تحصیلیں شامل ہوتی تھیں کلر سیداں کی 6 یونین کونسل 1988 سے میرے حلقے میں تھیں اس نے پہلے کام کیا تھا ۔

(جاری ہے)

سیاسی بنیاد موجودہ اور ترقیاتی کام ہو ئے تھے۔ 11 یونین کونسل جو میرے ساتھ شامل نہیں تھی پنڈی کی تحصیل میں شامل ہوگئیں ہیں۔ میں نے ان حلقوں میںکام نہیں کیا۔ سیاسی طور پر وہاں مضبوط نہیں مگر پارٹی مضبوط ہے سمجھ نہیںآئی الیکشن کمیشن کے کسی طرح حلقوں کی تقسیم کی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ دوسری دفعہ میں اکثریت سے جیتا ہوں۔ میرے مخالفین کے ملا کر ایک لاکھ ووٹ بنے جبکہ میرے ایک لاکھ35 ہزار ووٹ تھے میرے حلقے میں برادری کا ووٹ نہیں پارٹی کا ووٹ ڈلتا ہے۔

ماضی میں یہ حلقہ پیپلزپارٹی میںہوتا تھا اس دفعہ بھی انہیں ووٹ کم ہی ملے گا پارٹی بنیاد پر امیدوار ووٹ حاصل کریں گے۔ اس حلقے میں پیپلزپارٹی کا کوئی مضبوط امیدوار نہیں اس مرتبہ 50 ہزار کے قریب پی پی کے امیدوار نے ووٹ حاصل کیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میرے حلقے میں اچھا الیکشن ہو گا۔ اس حلقے کے لوگوں کا مزاج پاکستان کے دیگر حلقوں سے مختلف ہے اس حلقے مین لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا اور نہ ہی یہاں کے لوگ اسلحہ لے کر نہیں پھرتے اور نہ ہی پیسے چلتے ہیں یہاں کے لوگ امیدوار کو ہر لحاظ سے جانتے ہیں قومی اور حلقے کی سطح پر کیا کام کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے میں گزشتہ 10 ماہ سے اپنے حلقے کی عوام کو وقت نہیں دے پایا، اگر ایم این اے ہوتا تو زیادہ وقت دے سکتا تھا، وزیراعظم کی حیثیت سے زمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں مگر پھر بھی ہوں یہاں کی عوام ساتھ ہیں لوگ سمجھتے ہیں پارٹی اور ملک کے کیلئے کیا کام کیا، پارٹی کے امیدوار کے طور پر یہ حلقے میرے لیے اچھا رہے گا، ہمارا ووٹر ہمارے حالات کو اچھی طرح سمجھتا ہے، سابق وزیراعطم کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سے الیکشن لڑنے کی ذمہ داری پارٹی نے دی چونکہ اس حلقے سے عمران خان مدمقابل ہیں، پارٹی نے قومی سطح کے پارٹی رہنما کے طور پر مجھے نامزد کیا اسلام آباد کے حلقے کیلئے میں بہت پرامید ہوں، کامیابی حاصل کریں گے، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام نہیں کہ وہ اثاثوں کی تفصیل کاغذات کے ساتھ لگائے، سیاستدانوں کی بدنامی کی جارہی ہے، بیان حلفی میں بھی عجیب قسم کے سوالات پوچھے گئے ہیں، ریٹرننگ آفیسر کو نہیں معلوم کے کسی بنیاد پر امیدوار کو الیکشن میں حصہ لینے دوں یا نہ دوں، جو آئینی ذمہ داری ہے، اگر کوئی جرم نہیں ہے کہ ہر طریقے سے امیدوار کو الیکشن لڑنے کا موقع فراہم کیا جائے اور آخری فیصلہ عوام کا ہونا چاہئے، اگر فیصلے عدالت اور الیکشن کمیشن شروع کر دیے تو صاف ظاہر ہوتا ہے دال میں کچھ کالا ہے۔